@achikitabenn: یا رب! یہ بندہ گنہگار ہے اور بالکل تھوڑے اور ناقص اعمال لے کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہے۔ یہ اپنے الجھنوں اور گناہوں کا اعتراف کرنے والا مجرم ہے، لیکن صفائی پیش کرنے کے لیے کوئی وکیل ساتھ نہیں لایا (بلکہ تیرے کرم کے بھروسے خود آ گیا ہے)۔ اسے اپنے در سے ناامید اور خالی ہاتھ نہ لوٹا، اس کی خطاؤں کو معاف فرما دے، کیونکہ تیرے آستانے پر ایک عاجز و بے بس بندہ التجا لے کر آیا ہے۔ کتاب کا نام: رنگِ نظام (رباعیات) پیر سید نصیر الدین نصیرؔ کے فکری اسلوب کا روحِ رواں یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے تمام تر طرۂِ کمال، زہد اور پارسائی کے دعوے اتار کر بالکل ننگے پاؤں اور خالی ہاتھ کھڑا ہو جائے۔ اس شعر میں وہ اسی کیفیت کو بیان کرتے ہیں کہ جب ایک انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے تمام تر سجدے اور عبادات اللہ کے نامحدود احسانات کے مقابلے میں محض نہ ہونے کے برابر ہیں، تو وہ کسی وکیل یا صفائی کی تاویل کے بغیر اپنے گناہوں کی گھٹڑی اٹھائے سیدھا بارگاہِ الٰہی میں آ گرتا ہے؛ کیونکہ دنیا میں تو جرم چھپایا جاتا ہے مگر خدا کے سامنے سچی توبہ کا پہلا قدم ہی اعترافِ جرم ہے۔ یہی وہ مقامِ عجز اور "عبدِ ذلیل" ہونے کا سچا احساس ہے جہاں بندے کا غرور ٹوٹتا ہے اور اس کی ندامت کا ایک ایک آنسو رب کی بے پناہ رحمت کو دعوت دیتا ہے، اور پھر اس در کا یہ لازوال قانون حرکت میں آتا ہے کہ یہاں سے سچے دل سے معافی مانگنے والے کو کبھی ناامید اور خالی ہاتھ نہیں موڑا جاتا۔ Peer Naseer Sufi Night Walk, Sufi Mood Reset in 30s #sufism #dhikr #peer2peer #spiritualgrowth #creatorsearchinsights