@photosbykysa: makes for the cutest candids ⭐️📷 #motionblur #photographer #photosbykysa #bookwithme #fyp

PhotosByKysa
PhotosByKysa
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 28 July 2026 16:35:20 GMT
711
91
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @photosbykysa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

BLUNDER-Goal-Balasan-Singapura-Indonesia. INDONESIA DITAHAN IMBANG SINGAPURA 1-1, GARUDA GAGAL MELANGKAH KE SEMIFINAL PIALA AFF 2026 Jakarta — Timnas Indonesia harus mengubur harapan untuk melaju ke semifinal Piala AFF 2026 setelah hanya mampu bermain imbang 1-1 menghadapi Singapura dalam laga penentuan Grup A, Jumat malam. Pertandingan berlangsung sengit sejak menit awal. Indonesia yang membutuhkan kemenangan tampil agresif dan berusaha menguasai jalannya pertandingan. Namun, Singapura mampu memberikan perlawanan ketat dan beberapa kali mengancam pertahanan Garuda. Indonesia akhirnya berhasil mencetak gol pembuka dan sempat berada di atas angin. Namun, keunggulan tersebut tidak mampu dipertahankan hingga pertandingan berakhir. Singapura berhasil menyamakan kedudukan menjadi 1-1. Setelah gol tersebut, Indonesia terus meningkatkan tekanan untuk mencari gol kemenangan. Sejumlah peluang berhasil diciptakan, tetapi penyelesaian akhir yang kurang maksimal membuat skor tetap bertahan. Hingga peluit panjang dibunyikan, skor Singapura 1-1 Indonesia tidak berubah. Hasil imbang tersebut menjadi pukulan bagi skuad Garuda. Indonesia gagal memenuhi target kemenangan yang dibutuhkan untuk mengamankan tiket ke semifinal Piala AFF 2026. Kegagalan ini sekaligus mengakhiri perjalanan Indonesia di turnamen tahun ini. Para pemain harus menerima kenyataan pahit setelah perjuangan panjang di fase grup berakhir tanpa tiket menuju babak empat besar. Sementara itu, Singapura berhasil menjaga peluang mereka dan mengamankan posisi yang lebih baik dalam persaingan Grup A. Hasil akhir: 🇸🇬 Singapura 1-1 Indonesia 🇮🇩 Indonesia tersingkir dari Piala AFF 2026 #singapore#timnasindonesia.#BLUNDER
BLUNDER-Goal-Balasan-Singapura-Indonesia. INDONESIA DITAHAN IMBANG SINGAPURA 1-1, GARUDA GAGAL MELANGKAH KE SEMIFINAL PIALA AFF 2026 Jakarta — Timnas Indonesia harus mengubur harapan untuk melaju ke semifinal Piala AFF 2026 setelah hanya mampu bermain imbang 1-1 menghadapi Singapura dalam laga penentuan Grup A, Jumat malam. Pertandingan berlangsung sengit sejak menit awal. Indonesia yang membutuhkan kemenangan tampil agresif dan berusaha menguasai jalannya pertandingan. Namun, Singapura mampu memberikan perlawanan ketat dan beberapa kali mengancam pertahanan Garuda. Indonesia akhirnya berhasil mencetak gol pembuka dan sempat berada di atas angin. Namun, keunggulan tersebut tidak mampu dipertahankan hingga pertandingan berakhir. Singapura berhasil menyamakan kedudukan menjadi 1-1. Setelah gol tersebut, Indonesia terus meningkatkan tekanan untuk mencari gol kemenangan. Sejumlah peluang berhasil diciptakan, tetapi penyelesaian akhir yang kurang maksimal membuat skor tetap bertahan. Hingga peluit panjang dibunyikan, skor Singapura 1-1 Indonesia tidak berubah. Hasil imbang tersebut menjadi pukulan bagi skuad Garuda. Indonesia gagal memenuhi target kemenangan yang dibutuhkan untuk mengamankan tiket ke semifinal Piala AFF 2026. Kegagalan ini sekaligus mengakhiri perjalanan Indonesia di turnamen tahun ini. Para pemain harus menerima kenyataan pahit setelah perjuangan panjang di fase grup berakhir tanpa tiket menuju babak empat besar. Sementara itu, Singapura berhasil menjaga peluang mereka dan mengamankan posisi yang lebih baik dalam persaingan Grup A. Hasil akhir: 🇸🇬 Singapura 1-1 Indonesia 🇮🇩 Indonesia tersingkir dari Piala AFF 2026 #singapore#timnasindonesia.#BLUNDER
قومی صحت، ضوابط و رابطہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا کراچی میں اجلاس قومی صحت، ضوابط و رابطہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹر ناصر محمود بٹ نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، سندھ کے صوبائی وزیر محنت سعید غنی اور وفاقی و صوبائی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی نے ملک بھر، خصوصاً سندھ میں ایچ آئی وی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چونکہ یہ معاملہ بنیادی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے صوبائی وزیر سعید غنی نے کمیٹی کو صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ولیکا اسپتال کے واقعے کی دو بڑی انکوائریاں کی گئیں، جن میں 37 افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، تاہم ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ نے ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سوشل سکیورٹی فنڈ قائم کیا ہے اور یقین دلایا کہ کسی بھی ذمہ دار شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر سوالات سینیٹر ناصر محمود بٹ نے سوال کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئیں۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے بھی کارروائی میں تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں کیوں ادا نہ کر سکا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی بریفنگ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ کمیشن جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کرا چکا ہے، لیکن موجودہ قانون کی کمزوریوں کی وجہ سے ملزمان جلد ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ترامیم کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ عطائیت کے خلاف کارروائی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمیشن کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے اور پورے سندھ میں صرف 170 اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ افرادی قوت کی کمی پر سوالات سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سوال کیا کہ کمیشن اب تک عملے کی کمی کا شکار کیوں ہے اور کیا اس بارے میں صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے چیئرمین کمیٹی سے درخواست کی کہ متعلقہ اداروں کو مناسب ہدایات جاری کی جائیں تاکہ معاملے میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ اگر انتظامی کمزوریاں موجود ہیں تو حکومت کو ان کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اضافی عملہ فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کتنی مرتبہ باضابطہ درخواست دی۔ ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی مہم سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ایچ آئی وی انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس لیے فوری طور پر ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنسی اور تولیدی صحت ایک حساس موضوع ہے، لیکن نوجوانوں کو اس بارے میں مناسب آگاہی دینا ضروری ہے، لہٰذا اسکولوں میں بھی مناسب تعلیمی آگاہی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ آئندہ خصوصی اجلاس وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے تجویز دی کہ آئندہ کسی اجلاس کو صرف ایچ آئی وی اور آبادی کے مسائل کے لیے مختص کیا جائے تاکہ ان پر تفصیلی بحث کی جا سکے۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ صرف سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، بلکہ انتظامی ناکامیوں کے ذمہ دار افسران کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیکریٹری صحت سندھ کی تاخیر کمیٹی نے سیکریٹری صحت سندھ کی تاخیر سے آمد پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اجلاس میں شرکت کر کے معذرت کی، جس کے بعد کارروائی جاری رہی۔ خاندانی منصوبہ بندی پر تشویش چیئرمین کمیٹی نے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، حالانکہ حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ سے بہتر نتائج سامنے آنے چاہییں تھے۔ ماں اور بچے کی غذائیت سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ حمل سے لے کر بچپن تک بچے کی صحت ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین اور بچوں کو مناسب غذائیت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور بنیادی صحت مراکز کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
قومی صحت، ضوابط و رابطہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا کراچی میں اجلاس قومی صحت، ضوابط و رابطہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹر ناصر محمود بٹ نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، سندھ کے صوبائی وزیر محنت سعید غنی اور وفاقی و صوبائی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی نے ملک بھر، خصوصاً سندھ میں ایچ آئی وی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چونکہ یہ معاملہ بنیادی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے صوبائی وزیر سعید غنی نے کمیٹی کو صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ولیکا اسپتال کے واقعے کی دو بڑی انکوائریاں کی گئیں، جن میں 37 افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، تاہم ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ نے ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سوشل سکیورٹی فنڈ قائم کیا ہے اور یقین دلایا کہ کسی بھی ذمہ دار شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر سوالات سینیٹر ناصر محمود بٹ نے سوال کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئیں۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے بھی کارروائی میں تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں کیوں ادا نہ کر سکا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی بریفنگ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ کمیشن جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کرا چکا ہے، لیکن موجودہ قانون کی کمزوریوں کی وجہ سے ملزمان جلد ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ترامیم کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ عطائیت کے خلاف کارروائی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمیشن کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے اور پورے سندھ میں صرف 170 اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ افرادی قوت کی کمی پر سوالات سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سوال کیا کہ کمیشن اب تک عملے کی کمی کا شکار کیوں ہے اور کیا اس بارے میں صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے چیئرمین کمیٹی سے درخواست کی کہ متعلقہ اداروں کو مناسب ہدایات جاری کی جائیں تاکہ معاملے میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ اگر انتظامی کمزوریاں موجود ہیں تو حکومت کو ان کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اضافی عملہ فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کتنی مرتبہ باضابطہ درخواست دی۔ ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی مہم سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ایچ آئی وی انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس لیے فوری طور پر ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنسی اور تولیدی صحت ایک حساس موضوع ہے، لیکن نوجوانوں کو اس بارے میں مناسب آگاہی دینا ضروری ہے، لہٰذا اسکولوں میں بھی مناسب تعلیمی آگاہی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ آئندہ خصوصی اجلاس وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے تجویز دی کہ آئندہ کسی اجلاس کو صرف ایچ آئی وی اور آبادی کے مسائل کے لیے مختص کیا جائے تاکہ ان پر تفصیلی بحث کی جا سکے۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ صرف سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، بلکہ انتظامی ناکامیوں کے ذمہ دار افسران کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیکریٹری صحت سندھ کی تاخیر کمیٹی نے سیکریٹری صحت سندھ کی تاخیر سے آمد پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اجلاس میں شرکت کر کے معذرت کی، جس کے بعد کارروائی جاری رہی۔ خاندانی منصوبہ بندی پر تشویش چیئرمین کمیٹی نے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، حالانکہ حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ سے بہتر نتائج سامنے آنے چاہییں تھے۔ ماں اور بچے کی غذائیت سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ حمل سے لے کر بچپن تک بچے کی صحت ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین اور بچوں کو مناسب غذائیت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور بنیادی صحت مراکز کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

About