@abdullahhabib590: Bir Haddaj جزیرہ نما عرب کے سب سے قدیم، بڑے اور مشہور کنوؤں میں سے ایک ہے۔ یہاں بئر ہداج کی تاریخ اور اس کی اہمیت کے حوال# سے تفصیلی معلومات اردو میں پیش کی جا رہی ہیں: بئر ہداج کی قدامت اور تاریخ * **ابتدائی تاریخ:** آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق بئر ہداج کی تاریخ تقریباً 2500 سے 3000 سال پرانی ہے (پہلی صدی قبل مسیح)۔ بعض مقامی روایات اسے اس سے بھی زیادہ قدیم بتاتی ہیں۔ * **بابلی دور کا مرکز:** جب بابل کے مشہور بادشاہ **نبو نید** (King Nabonidus) نے 556 سے 539 قبل مسیح کے دوران تیماء کو اپنا مسکن بنایا، تو یہ کنواں اس شہر اور نخلستان (Oasis) کی زندگی کا سب سے اہم مرکز تھا۔ اس دور میں تیماء ایک بہت بڑا تجارتی اور ثقافتی مرکز بن چکا تھا۔ * **تجارتی شاہراہ کا پڑاؤ:** قدیم زمانے میں شام (Syria) اور یمن کے درمیان سفر کرنے والے تجارتی قافلے پانی اور آرام کے لیے تیماء میں اسی کنوئیں پر رکا کرتے تھے۔ ### 2. طرزِ تعمیر اور انوکھی خصوصیات * **رقبہ اور گہرائی:** یہ کنواں اپنے گول اور وسیع حجم کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا قطر (Diameter) تقریباً 65 فٹ (15 سے 18 میٹر) کے لگ بھگ ہے۔ * **پانی نکالنے کا قدیم نظام:** اس کنوئیں کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ قدیم دور میں اس سے پانی نکالنے کے لیے بیک وقت **40 اونٹ** استعمال کیے جاتے تھے۔ ان اونٹوں کو عربی میں **"سواني"** کہا جاتا تھا۔ کنوئیں کے چاروں طرف لکڑی کی چرخیوں کا ایک شاندار نظام نصب تھا جس کی مدد سے پورے شہر اور کھجور کے باغات کو سیراب کیا جاتا تھا۔ * **پتھر کی چنائی:** اس کے اندر اور کناروں پر ہاتھ سے تراشے گئے مضبوط پتھروں کی چنائی کی گئی ہے، جو قدیم دور کی بہترین انجینئرنگ کا ثبوت ہے۔ ### 3. عربی ادب اور تاریخ میں ذکر یہ کنواں زمانہ جاہلیت اور اسلامی دور میں انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ عربی ادب کے مشہور شعراء (جیسے السموأل) نے اپنے اشعار میں تیماء اور اس کے شاندار چشموں کا ذکر فخر سے کیا ہے۔ ہداج کا پانی اپنی مٹھاس اور کثرت کے لیے پورے عرب میں ضرب المثل تھا۔ ### 4. جدید دور میں بحالی (Restoration) * **شاہ سعود کا دورہ:** 1953ء (1373 ہجری) میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا **شاہ سعود بن عبدالعزیز** نے تیماء کا دورہ کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کسانوں کو اونٹوں کے ذریعے پانی نکالنے میں مشکل پیش آ رہی ہے، تو انہوں نے کسانوں کی سہولت اور زراعت کے فروغ کے لیے یہاں 4 جدید واٹر پمپ (Water pumps) لگانے کا حکم دیا۔ * **تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش:** بعد ازاں، جب سعودی حکومت نے آثار قدیمہ کے تحفظ کا آغاز کیا، تو اس کنوئیں کو اس کی اصل اور قدیم شکل میں بحال کر دیا گیا۔ آج وہاں پرانی وضع کی لکڑی کی چرخیاں اور ڈھانچے دوبارہ نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ لوگ اس کے قدیم نظام کو دیکھ سکیں۔ ### موجودہ حیثیت آج **بئر ہداج** سعودی عرب کے صوبہ تبوک کا ایک انتہائی اہم **سیاحتی اور تاریخی مقام** (Tourist Attraction) ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اور تاریخ دان تیماء آ کر اس ہزاروں سال پرانے شاہکار کو دیکھتے ہیں، جسے سعودی ویژن 2030 کے تحت محفوظ قومی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ #tayma #taymatabukksa