Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@mdjisan6081: #fpy #concert #foryou #tiktok
👑JISAN [AHMED]👑
Open In TikTok:
Region: BD
Wednesday 29 July 2026 09:48:17 GMT
242344
21261
225
722
Music
Download
No Watermark .mp4 (
6.09MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
4.97MB
)
Watermark .mp4 (
10.19MB
)
Music .mp3
Comments
Amir Khandakar Nirob :
hmmm amar crush
2026-07-30 14:04:47
0
🍁🍁Mim🍁🍁 :
কেয়ামতের আলামত 💔
2026-07-30 17:43:30
6
SAFIYAN AHMED SHAKIB :
কি কমেন্ট করমু বলেন😁
2026-07-29 12:45:44
10
Sami ❤️ :
যায় বলো না কেন মেয়ে টা কিন্তু সেই🫣
2026-07-30 12:58:56
8
🥰Jøy😎 dâs🥰 :
😁😁
2026-07-31 06:20:21
0
নীলচাঁদ :
টাক টা সেই
2026-07-30 14:34:51
1
℞ɐĸꜞḅ ꙳ :
2026-07-30 18:52:17
0
💞 𝕆𝕝𝕚 𝕦𝕝𝕝𝕒𝕙 💞 :
মামা সেই হইছে 😁
2026-07-30 02:58:58
0
To see more videos from user @mdjisan6081, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
قیامت کا منظر اور سانسوں کی قید جب گل پلازہ کی بلندیوں سے دھواں اٹھا، تو وہ صرف دھواں نہیں تھا بلکہ سینکڑوں آرزوؤں کا دم گھٹ رہا تھا۔ "پسینے چھوٹ پڑے اور موت سے بھاگتے بھاگتے نگاہیں ساکت ہو گئیں"۔ تصور کریں ان لوگوں کا جو لوہے کی سلاخوں اور بند دروازوں کے پیچھے قید تھے، جہاں باہر زندگی تھی اور اندر بھڑکتا ہوا جہنم۔ "راہیں تکتے تکتے سانسیں اکھڑ گئیں" کیونکہ وہاں آکسیجن ختم ہو رہی تھی اور زہریلا دھواں پھیپھڑوں میں اتر کر "زباں کو جام" کر رہا تھا۔ وہ دعا مانگنا چاہتے تھے، مگر "بات کہتے کہتے دعائیں دم توڑ گئیں۔ " خوابوں کی راکھ اور مٹتی لکیریں انسان ہاتھوں کی لکیروں میں رزق تلاش کرتا ہے، مگر اس دن ان مزدوروں اور دکانداروں کی "ہاتھوں کی لکیریں مٹ گئیں" کیونکہ وہ گرم تپتی دیواروں کو توڑنے کی کوشش میں اپنے ہی خون سے ہاتھ رنگ بیٹھے تھے۔ "قسمت تراشتے تراشتے پاؤں لہولہان ہو گئے"، وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگے ہوں گے، وہ کھڑکیوں کی طرف لپکے ہوں گے، مگر ہر طرف "شعلوں پر چلتے چلتے آوازیں خاموش ہو گئیں"۔ حلق سے نکلنے والی وہ آخری چیخ جو کسی مسیحا کو پکار رہی تھی، دھوئیں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی۔ بے بس پکار اور پتھر ہوتے قدم جب آگ نے وجود کو چھوا ہوگا، تو "خون پانی پانی ہو گیا" ہوگا۔ مدد کی پکار اتنی طویل تھی کہ "راستے ناپتے ناپتے زمین پر ڈھیر ہو گئے"۔ سب سے بڑا دکھ ان "اپنوں کی یاد" کا تھا جو گھروں میں ان کے لوٹنے کے منتظر تھے۔ وہ خواب جو صبح آنکھوں میں لے کر نکلے تھے، وہ وہیں "خواب دیکھتے دیکھتے دفن ہو گئے"۔ معجزہ نہ ہونا بھی ایک قیامت ہے؛ "معجزہ پرکھتے پرکھتے امیدیں خاک ہو گئیں"۔ نظام کی تپش اور محلوں کی بلندی یہاں تحریر کا وہ رخ شروع ہوتا ہے جو سماج کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایک طرف وہ "جسم جھلس گئے" اور "ہڈیاں سرمہ بن گئیں"، تو دوسری طرف شہر کے بے حس "مجرموں کے محل اونچے ہو گئے"۔ جس آگ میں غریب جلا، اسی کی تپش سے طاقتوروں کی تجوریاں گرم ہوئیں۔ "تماشہ دیکھتے دیکھتے انصاف کا گلہ گھٹ گیا"۔ شہر کی بلند عمارتیں گواہ ہیں کہ یہاں "سونا تولتے تولتے" عدل کا ترازو ہمیشہ جھک جاتا ہے۔ تاریخ کی خاموشی اور ضمیر کا سودا جب آگ بجھ گئی اور فائلیں بند ہو گئیں، تو "قیمت لگاتے لگاتے تاریخیں گونگی ہو گئیں"۔ کسی نے ہرجانے کی رقم طے کی، کسی نے ضمیر کا سودا کیا، اور کسی نے "جھوٹ پھیلاتے پھیلاتے" سچ کو ہی راکھ کر دیا۔ وہ جو جیتے جی ایک اکائی تھے، وہ اب صرف ایک ریکارڈ بن کر رہ گئے۔ "زندگی جیتے جیتے روح پرواز کر گئی" اور پیچھے چھوڑ گئی ایک ایسا شہر جہاں "انساں جلاتے جلاتے شہر خاموش ہو گیا"۔ راکھ جسم" صرف ان لوگوں کی کہانی نہیں جو گل پلازہ میں جل گئے، بلکہ یہ اس معاشرے کا نقشہ ہے جہاں سچ بولنے والوں کے گلے کٹ جاتے ہیں اور صبر کرنے والوں کا سب کچھ راکھ ہو جاتا ہے۔ آخر میں صرف راکھ بچتی ہے— وہ راکھ جو ہواؤں میں اڑ کر ہم سے سوال کرتی ہے کہ "کیا ہم بھی تماشائی تھے؟" Writer : @ridanaazofficial #RaakhJism #GulPlazaTragedy #KhamoshShehar #JusticeForVictims #KarachiFire © 2026 [ @ridanaazofficial ] - All rights reserved
🙇#for مجھ کو پینا ہے پینے دو..?
#حيدࢪ| 𓆩𝐇 𝐚 𝐞 𝐝 𝐫𓆪:يارب انا وأهلي تعطينا الصحه 🖤💫#تصميمي🎬 #المصمم #حيدر
هل الحجم له دور في الإحساس؟ ✨ هل يزيد الإحساس مع زيادة حجم العضو الذكري؟ في أغلب الأحيان حجم العضو ما هو العامل الأساسي في الإحساس. إلا في بعض الحالات النادرة لما يكون الزوج عنده ما يسمى طبياً Micropenis #حجم #احساس #زواج #تجميل #عضو #جدة #السعودية #ددانه_صوان #plasticsurgery #jeddah #saudiarabia
#viral
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy