@klartextdeutschland1: Ich denke, die EU entwickelt sich in eine gefährliche Richtung. So wie sie ist, sollte sie beendet werden.

Klartext Deutschland
Klartext Deutschland
Open In TikTok:
Region: DE
Wednesday 29 July 2026 10:01:31 GMT
806
57
5
6

Music

Download

Comments

margitta.tannert
Margitta Tannert :
Ja
2026-07-31 12:36:19
0
mg8078078
MG :
Ja
2026-07-29 12:32:39
0
gugi.s2810
gugiiiii :
Ja
2026-07-29 16:14:05
0
www.tiktok.competra6
Petra :
2026-07-29 10:07:03
0
u.e.schacht21
user5812582158630 :
DIKTATUR GRÖSSENWAHN EUROKRATUR KORRUPTION ☠️☠️☠️
2026-07-29 13:15:23
2
To see more videos from user @klartextdeutschland1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

@𝟐𝟕.𝟎𝟓.𝟐𝟎𝟐𝟒 ᥫ᭡ تکلیف تو حقیقت نے دی ہے، خواب تو آج بھی خوبصورت ہیں ہمارے، بس اب ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی ہمت نہیں رہی۔ کبھی جن لوگوں کی موجودگی سے دل کو سکون ملتا تھا، آج انہی کی یادیں دل کے اندر ایک ایسی خاموش تکلیف بن کر رہ گئی ہیں جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہم نے تو ہر خواب میں اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹ لی تھیں، مگر حقیقت نے آنکھ کھلتے ہی وہ سب کچھ چھین لیا جسے ہم نے اپنی زندگی سمجھ کر سنبھال رکھا تھا۔ اب کسی سے شکایت بھی نہیں کرتے، کیونکہ سمجھ آ گیا ہے کہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج وقت بھی نہیں کرتا، بس انسان انہیں اپنے اندر دفن کرنا سیکھ لیتا ہے۔ کاش خوابوں کی دنیا میں ہی زندگی گزارنے کی اجازت ہوتی، کیونکہ وہاں آج بھی وہی لوگ ہمارے ساتھ ہیں جنہیں حقیقت نے ہم سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا۔ دل آج بھی وہی چاہتا ہے جو کبھی نہیں مل سکا، اور آنکھیں آج بھی انہی راستوں کو تکتی ہیں جہاں سے کوئی لوٹ کر آنے والا نہیں۔ شاید ہماری قسمت میں خوشیوں کے خواب دیکھنا تو لکھا تھا، مگر ان خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھنا نہیں، اسی لیے آج بھی مسکراتے چہروں کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا دل لیے پھرتے ہیں۔
@𝟐𝟕.𝟎𝟓.𝟐𝟎𝟐𝟒 ᥫ᭡ تکلیف تو حقیقت نے دی ہے، خواب تو آج بھی خوبصورت ہیں ہمارے، بس اب ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی ہمت نہیں رہی۔ کبھی جن لوگوں کی موجودگی سے دل کو سکون ملتا تھا، آج انہی کی یادیں دل کے اندر ایک ایسی خاموش تکلیف بن کر رہ گئی ہیں جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہم نے تو ہر خواب میں اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹ لی تھیں، مگر حقیقت نے آنکھ کھلتے ہی وہ سب کچھ چھین لیا جسے ہم نے اپنی زندگی سمجھ کر سنبھال رکھا تھا۔ اب کسی سے شکایت بھی نہیں کرتے، کیونکہ سمجھ آ گیا ہے کہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج وقت بھی نہیں کرتا، بس انسان انہیں اپنے اندر دفن کرنا سیکھ لیتا ہے۔ کاش خوابوں کی دنیا میں ہی زندگی گزارنے کی اجازت ہوتی، کیونکہ وہاں آج بھی وہی لوگ ہمارے ساتھ ہیں جنہیں حقیقت نے ہم سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا۔ دل آج بھی وہی چاہتا ہے جو کبھی نہیں مل سکا، اور آنکھیں آج بھی انہی راستوں کو تکتی ہیں جہاں سے کوئی لوٹ کر آنے والا نہیں۔ شاید ہماری قسمت میں خوشیوں کے خواب دیکھنا تو لکھا تھا، مگر ان خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھنا نہیں، اسی لیے آج بھی مسکراتے چہروں کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا دل لیے پھرتے ہیں۔

About