@dr.soul99: صبر ہر بار صرف سکون یا خاموشی کا نام نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ اپنے اندر پلتے ہوئے طوفانوں کو گھونٹ گھونٹ پینے کا وه دردناک عمل ہے جس میں انسان کا دل پھٹ رہا ہوتا ہے۔ سینے میں درد کی لہریں حشر برپا کر رہی ہوتی ہیں، روح چیخ چیخ کر اپنا حال بیان کرنا چاہتی ہے اور زبان پر ہزاروں گلے شکوے اور سچائیاں مچل رہی ہوتی ہیں مگر انسان اپنے ہونٹوں کو سی لیتا ہے۔ جب بولنے کی تڑپ اتنی شدید ہو کہ گلا گھٹنے لگے، لیکن آپ محض اس لیے چپ رہیں کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ الفاظ آپ کا درد بانٹ نہیں سکتے۔ اندر ایک تلاطم ہوتا ہے، ایک ہنگامہ ہوتا ہے جو وجود کو توڑ کر رکھ دیتا ہے، مگر باہر سے دنیا کو صرف ایک گہری اور ساکت خاموشی نظر آتی ہے۔ یہ چپ کسی بے حسی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ صبر کی وہ تلخ ترین حد ہے جہاں انسان کھل کر رو بھی نہیں سکتا اور اندر ہی اندر ریزہ ریزہ ہوتا رہتا ہے