bilkul Sahi kaha ap ny
awr Jo log kh Rahy hain kh mulana sab NY ghalat btaya conform e log GP fund kar Rahy hain is ley is ko Sood nhe kh sakty
2026-08-01 13:26:05
1
Engr۔Jahanzaib۔Official :
ig office waly sood leny kaha dwty ha
2026-08-01 09:04:44
1
Mian Yousaf Shah :
ghalt farma rahy app
2026-08-01 10:10:20
0
Nasir140000 :
"جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہٰذا ملازم کو ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، ان میں سے کوئی رقم بھی شرعًا سود نہیں، البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اسپر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا، اس سے اجتناب کیا جائے، کیوں کہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے اور سود خوری کاذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی، اس لیے خواہ وصول ہی نہ کریں یا وصول کر کے صدقہ کر دیں ۔"
مذکورہ بالا عبارت میں حضرت مفتی صاحب نے ادارے کی طرف سے ملنے والی رقم کو صریح سود نہیں کہا ہے، بلکہ اس میں سود کا شبہ بیان کیا ہے اور لوگ اسے سود خوری کا ذریعہ نہ بنادیں تو سد باب کے طور پر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے، اور ربا کے باب میں حدیث شریف میں جہاں سود سے اجتناب کا حکم ہے، وہیں شبہ سود سے بھی اجتناب کا حکم ہے۔سود کا شبہ اس وجہ سے ہے کہ جب ملازم کے اختیار سے محکمہ کٹوتی کرتا ہےتو وکالت کا پہلو درمیان میں آجاتا ہے گویا ملازم اپنے ادارے سے کہتا ہے کہ میری رقم وضع کرکے اس پر سود لگادو ۔اس وکالت کے پہلو سے ملازم کا اختیار بھی ثابت ہوگیا اور وکیل کا قبضہ چوں کہ موکل کا قبضہ ہوتا ہے اس لیے قبضہ بھی متحقق ہوگیا اور آپ کا وہ اشکال بھی رفع ہوگیا ہے کہ جب رقم ملازم کے قبضہ میں نہیں آئی تو ملکیت میں نہیں آئی اور ملکیت نہ آئی تو ملک کا دوسری ملک کے ساتھ تبادلہ بھی نہ ہوا۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143601200018
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
2026-07-31 11:46:39
3
Naveed :
مولانا صاحب آپ بھی ایک انسان ہیں، آپ کے پاس ہر چیز کا مکمل علم نہیں ہو سکتا۔ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے یہ کہہ دیا کریں کہ "اس مسئلے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کر لیں یا ان سے رائے لے لیں۔"
لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب ضرور دیا جاتا ہے، چاہے اس کا مکمل علم ہو یا نہ ہو۔ ہر معاملے میں اپنی رائے دینا مناسب نہیں، کیونکہ بعض اوقات خاموشی اختیار کرنا یا اہلِ علم کی طرف رہنمائی کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
2026-07-31 04:35:24
10
Dr.Daud :
جی یہ بات مفتی تقی عثمانی صاحب کو نہیں معلوم مگر انہیں خبر صرف
2026-07-30 16:43:56
3
Naeem khan :
مولانا ۔ اپ اپنے دیوبند مکتبہ فکر دارالعلوم ملتان کراچی وغیرہ کے خلاف بول رھے ھیں یہ بہبودی فنڈ حکومت کی طرف سے جبری تنخواہ جیسا عطا ھے سود نہی ھے
2026-07-31 09:21:32
2
Makinwal :
وہ تو کلرک لیتا ہیں کیا یہ صصح ہیں
2026-08-01 11:20:27
0
Farman Ullah :
sood ka paisa mere liye nahi par kesi aur k kiye kese halal hu gaya, sood ka paisa sirf khana haram hai ya milna haram hai
2026-08-01 09:18:19
1
nazo niaz :
بضاہر تو جواب ٹھیک ہے
لیکن یہ بتائیں کہ یہ جو ہر سال روپے کی قدر کم کرتے ہیں اور 5 سال بعد جب اضافی رقم ملا کر بھی اس مقدار کا سونا نہیں خریدا جا سکتا جو کہ 5 سال پہلے اصل زر سے خریدا جا سکتا تھا
2026-07-30 20:35:10
6
Peer Sahib :
اگر وہ انٹرسٹ تجھے دیا جائے تو پھر کیا حکم ھے؟
2026-07-31 15:09:18
0
muhammaddinshaikh3 :
مولانا صاحب آپ کا جواب بغیر ریفرنس کے ہے. دیوبند مکتبہ فکر کے علماء کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں...ماہنامہ شریعہ از مولانا مفتی عبدالوہاب چاچڑ صاحب
2026-08-01 06:07:18
0
Wasil Niaz :
مطالعہ کر کے بیان فرمایا کریں۔۔۔
2026-08-01 07:37:56
1
SHAH G5121472 :
جناب ہر سال کا ریٹ الگ ہوتا ہے 25 یا 30 سال کا کیسے حساب ہو اور کون کرے؟؟؟
2026-07-31 18:04:44
1
Saleem Raza :
ap ko dy dain
2026-07-30 18:05:38
0
Ansar mehmood :
یہ کوئی سود نہیں ھماری اپنی رقم کا منافع ھے
2026-07-31 05:46:46
2
Wasil Niaz :
مولانا۔۔
جب تک پیسہ میرے اکاؤنٹ بھی نہیں ایا ہو وہ اماؤنٹ میری نہیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے زیادہ بدل مل رہا ہے۔ لہذا یہ سود نہیں۔ جو لوگ مبتلا بھی نہیں ہوتے انہیں اس مسئلے کا پتہ نہیں چلتا۔ سل المجرب ولا تسال الحكيم
2026-08-01 07:33:40
2
Khalid Ameer Awan :
جی پی فنڈ والا مسئلہ بھی عجیب ھے۔ اگر جی پی فنڈ میری مرضی سے کاٹا نہیں جا رھا تو پھر اس پر منافع سود کیسے ھوا؟؟
سود تو تب ھوتا ھے جب اگر آپ کسی کو کوئی رقم دیں اور کہیں کہ جب واپس لوں گا تو اتنے پیسے زیادہ لوں گا۔ یہ تو ھو گئی سود کی رقم جو زائد لی گئی۔
باقی اگر جی پی فنڈ میری مرضی سے کاٹا نہیں جا رھا تو اس پر یہ تو پوچھنا ھی زیادتی ھے کہ منافع لینا ھے یا نہیں۔
جب میری تنخواہ سے جی پی فنڈ میری مرضی سے نہیں کاٹا جا رھا تو اس طریقہ کو ختم کر کے جی پی فنڈ کی کٹوتی بھی میری مرضی سے ھونی چاہیئے۔ اگر میں اپنی مرضی سے جی پی فنڈ کٹواؤں اور پھر میں کہوں کہ اس پر مجھے منافع دیا جائے تو وہ سود ھو گا۔
اصل رقم کی کٹوتی اگر پچیس سال پہلے کی جاتی ھے اور اس کی واپسی پچیس سال بعد کی جاتی ھے تو پیسے کی ویلیو کتنی کم ھو چکی ھوتی ھے اس کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔
2026-08-01 07:41:00
1
HASSAN HALEEM (MARIU) :
molvee Sahab molvee Jo nimaaz padhany ki tanha lyta hi wo to Haram Hoti hi os ka Kya krin wo bhi batyin
2026-07-30 13:26:57
1
Abu Umama AwaN :
غلط مسئلہ بتا رہا ہے
2026-07-30 09:52:28
4
Khalid khan Khalid khan :
Jo kaam islami mulk mein hota he uss ki zamadari waqut hakun per hoti h
2026-07-31 05:05:41
2
user8123463064778 :
gpf employees ki marzi se nhi kata jata govt khud katthi hai..aur khud hi interest lagati hai..pir ye sood kaise hua..molvi sahib is masle par dobara ghor krlo..ya pir kisi aur molvi se b pooch lo
2026-08-01 15:12:47
0
To see more videos from user @sawaljawab26, please go to the Tikwm
homepage.