قرآن مسلمانوں کو نماز قائم کرنے اور صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتا ہے اور صرف قبروں یا درباروں پر حاضری کو دین سمجھتا ہے، تو یہ قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو۔"
(سورۃ الروم 30:31)
اور فرمایا:
"اور مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔"
(سورۃ الجن 72:18)
اگر کوئی دربار پر جا کر مردوں سے دعا مانگے، ان سے مدد طلب کرے یا سجدہ کرے، تو یہ عمل اسلام میں جائز نہیں اور اس سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
البتہ قبروں کی زیارت اگر صرف دعا، عبرت حاصل کرنے اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی نیت سے ہو، تو یہ جائز ہے۔ لیکن عبادت، سجدہ، نذر یا مدد مانگنا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔"
(سورۃ النساء 4:48)
2026-07-31 08:36:57
0
Nasir ali :
😆😆😆😆😆😆
2026-07-31 06:35:27
0
m.nawaz10007 :
Allal
2026-07-31 08:37:21
0
Harnf :
yttieurururyyyGoo
2026-07-31 07:38:47
0
Ghulam Abbas :
🌹🌹🌹
2026-07-31 10:28:44
0
lamakamyar225 :
❤️❤️❤️
2026-07-31 05:16:50
0
To see more videos from user @sufi.verse, please go to the Tikwm
homepage.