@abyvargaas: Que mejor manera d iniciar la semana cumpleañera 😌 #fyppppppppppppppppppppppp

abyyy
abyyy
Open In TikTok:
Region: MX
Friday 31 July 2026 06:21:02 GMT
6770
600
10
8

Music

Download

Comments

jullieth_m
𝐉★ :
bellísimaaaa
2026-07-31 06:23:54
2
_xneviss
Neviss_TP🦜 :
bella bella🥰
2026-07-31 06:24:12
2
monterrey166
saulalvarescastilo :
Hermosa
2026-07-31 13:06:33
0
giovas83rx
Giovanni Ramirez Her :
que guapa
2026-07-31 13:03:46
0
agustn.luna932
Agustín Luna :
que hermosa 💐🌹🌹🌹💐
2026-07-31 06:25:35
0
juanpablocruz938
juanpablocruz938 :
hermosa 😍😍😍😘❤️❤️
2026-07-31 06:35:18
0
mito.fabian
Mito Fabián :
❤️
2026-07-31 13:49:27
0
monterrey166
saulalvarescastilo :
❤️
2026-07-31 13:06:24
0
montse2717
Montse Rodriguez :
❤️
2026-07-31 06:28:52
0
edgargustavovazqu7
edgarin :
💖💖💖💖💖💖
2026-07-31 17:54:32
0
To see more videos from user @abyvargaas, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کمانڈر فاروق کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر ایس ایس جی کمانڈو رہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اپنے اندر کے سپاہی کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا۔ جس وقت انہیں شہید کیا گیا، تب بھی ان کے کندھوں پر وہی وردی موجود تھی جو انہوں نے دہائیوں قبل اپنائی تھی۔  پچاسی سالہ اس بزرگ جانباز کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر انہیں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے چیئرمین یاسر عرفات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ کانفرنس عرب اسرائیل جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران اپنی تقاریر میں وہ اکثر ایس ایس جی میں اپنے عہدے اور اپنی یونٹ، 2 کمانڈو، کا فخر سے ذکر کیا کرتے تھے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ایک تربیت یافتہ کمانڈو کو پُرامن اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والا سیاسی کارکن بنا دیا تھا۔ جب انہیں گولی مار کر شہید کیا گیا تو ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں بیان کر سکوں کہ وہ ہمارے لیے کون تھے۔ ان کی موجودگی ہمارے لیے کیا معنی رکھتی تھی، اور یہ جان کر دل پر کیا گزر رہی ہے کہ دکھ اور آزمائش کے ہر لمحے میں ہمیں سہارا دینے والا وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد کندھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔ جن لوگوں نے کمانڈر فاروق کو چُن کر نشانہ بنایا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کمانڈر فاروق مزاحمت کی مجسم شکل تھے، ان پر چلنے والی دو گولیاں ایک فرد پر نہیں بلکہ سبز علی خان اور ملی خان سے لیکر اس دھرتی پر پیدا ہونیوالے ہر اس شہید اور غازی کے سینے پر چلی ہیں جس کے دل میں آزادی کشمیر کی تڑپ موجود تھی۔یہ ہم سے ہماری شناخت اور تاریخ چھیننے کی ایک ناکام کوشش تھی۔  کمانڈر فاروق کی شہادت کے بعد اس جدوجہد کی نوعیت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے گا، مگر اب یہاں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ بھی باقی نہیں رہا۔ بات واضح ہو چلی ہے، ہم بیرونی قبضے اور جارحیت کیخلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، چاہے دہائیاں بیت جائیں اور ہزاروں قربان ہو جائیں، یہ جدوجہد اب رکنے والی نہیں۔ ذہنی طور پر اس صدمے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ کل کمانڈر فاروق کو ٹی وی سکرینوں پر دہشتگرد طالبان کا سرغنہ قرار دیکر ان کی شہادت کا مذاق اڑایا جا رہا ہو گا۔  کمانڈر فاروق منگ کی اس تاریخی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جہاں 1832 میں ڈوگرہ افواج نے ہمارے اٹھارہ سرداروں کی زندہ کھالیں اتروائی تھیں۔ ہمارے لیے وہ اس نسل اور اس کردار کی زندہ علامت تھے جس کے بارے میں ہم اب تک صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔ وہ اسی مٹی کے فرزند تھے جس نے 1832 اور 1947 کے جانبازوں کو جنم دیا۔ پاکستان رینجرز کی گولی کا نشانہ بننے والے کمانڈر فاروق نے اپنی زندگی کے پچیس برس اسی فوج کی خدمت میں گزارے جس کے ہاتھوں ان کی شہادت ہوئی۔ بعد میں جب کشمیر میں آزادی کی تحریک نے منظم صورت اختیار کی تو وہ اس تحریک کے اہم معماروں میں شامل رہے۔  آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کے استاد کو راولاکوٹ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے قتل کر دیا ہے۔  اللہ پاک اُن کے درجات بلند فرمائے۔۔۔ #ajkrightsmovement #awamiactioncommittee #longmarch #azadkashmir #commanderfarooq
کمانڈر فاروق کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر ایس ایس جی کمانڈو رہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اپنے اندر کے سپاہی کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا۔ جس وقت انہیں شہید کیا گیا، تب بھی ان کے کندھوں پر وہی وردی موجود تھی جو انہوں نے دہائیوں قبل اپنائی تھی۔ پچاسی سالہ اس بزرگ جانباز کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر انہیں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے چیئرمین یاسر عرفات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ کانفرنس عرب اسرائیل جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران اپنی تقاریر میں وہ اکثر ایس ایس جی میں اپنے عہدے اور اپنی یونٹ، 2 کمانڈو، کا فخر سے ذکر کیا کرتے تھے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ایک تربیت یافتہ کمانڈو کو پُرامن اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والا سیاسی کارکن بنا دیا تھا۔ جب انہیں گولی مار کر شہید کیا گیا تو ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں بیان کر سکوں کہ وہ ہمارے لیے کون تھے۔ ان کی موجودگی ہمارے لیے کیا معنی رکھتی تھی، اور یہ جان کر دل پر کیا گزر رہی ہے کہ دکھ اور آزمائش کے ہر لمحے میں ہمیں سہارا دینے والا وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد کندھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔ جن لوگوں نے کمانڈر فاروق کو چُن کر نشانہ بنایا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کمانڈر فاروق مزاحمت کی مجسم شکل تھے، ان پر چلنے والی دو گولیاں ایک فرد پر نہیں بلکہ سبز علی خان اور ملی خان سے لیکر اس دھرتی پر پیدا ہونیوالے ہر اس شہید اور غازی کے سینے پر چلی ہیں جس کے دل میں آزادی کشمیر کی تڑپ موجود تھی۔یہ ہم سے ہماری شناخت اور تاریخ چھیننے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ کمانڈر فاروق کی شہادت کے بعد اس جدوجہد کی نوعیت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے گا، مگر اب یہاں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ بھی باقی نہیں رہا۔ بات واضح ہو چلی ہے، ہم بیرونی قبضے اور جارحیت کیخلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، چاہے دہائیاں بیت جائیں اور ہزاروں قربان ہو جائیں، یہ جدوجہد اب رکنے والی نہیں۔ ذہنی طور پر اس صدمے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ کل کمانڈر فاروق کو ٹی وی سکرینوں پر دہشتگرد طالبان کا سرغنہ قرار دیکر ان کی شہادت کا مذاق اڑایا جا رہا ہو گا۔ کمانڈر فاروق منگ کی اس تاریخی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جہاں 1832 میں ڈوگرہ افواج نے ہمارے اٹھارہ سرداروں کی زندہ کھالیں اتروائی تھیں۔ ہمارے لیے وہ اس نسل اور اس کردار کی زندہ علامت تھے جس کے بارے میں ہم اب تک صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔ وہ اسی مٹی کے فرزند تھے جس نے 1832 اور 1947 کے جانبازوں کو جنم دیا۔ پاکستان رینجرز کی گولی کا نشانہ بننے والے کمانڈر فاروق نے اپنی زندگی کے پچیس برس اسی فوج کی خدمت میں گزارے جس کے ہاتھوں ان کی شہادت ہوئی۔ بعد میں جب کشمیر میں آزادی کی تحریک نے منظم صورت اختیار کی تو وہ اس تحریک کے اہم معماروں میں شامل رہے۔ آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کے استاد کو راولاکوٹ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے قتل کر دیا ہے۔ اللہ پاک اُن کے درجات بلند فرمائے۔۔۔ #ajkrightsmovement #awamiactioncommittee #longmarch #azadkashmir #commanderfarooq

About