@pakistaniainqassim: خالد بن صفوان نے ایک خاتون کو پیامِ نکاح دیا اور فرمایا: ’’میں خالد بن صفوان ہوں۔ حسن کا حال تم پر روشن ہے، دولت کی فراوانی کی خبر بھی تم تک پہنچ ہی چکی ہو گی۔ البتہ مجھ میں چند خصلتیں اور ہیں؛ وہ بھی گوش گزار کیے دیتا ہوں، پھر چاہو تو ہاں کر دینا، چاہو تو دامن بچا لینا۔‘‘ خاتون نے کہا: ’’وہ خصلتیں کیا ہیں؟‘‘ بولے: ’’شریف عورت میرے قریب ہو تو جی اُکتا جاتا ہے، دور ہو تو جان پر بن آتی ہے۔ میرے درہم و دینار تک کسی کی رسائی نہیں؛ اور کبھی طبیعت پر ایسی بیزاری سوار ہوتی ہے کہ اگر اپنا سر ہاتھ میں آ جائے تو اسے بھی اٹھا کر پھینک دوں۔‘‘ خاتون نے فرمایا: ’’حضرت! آپ کا بیان خوب سمجھا اور جو کچھ ارشاد ہوا، سب گرہ سے باندھ لیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ میں، بحمدِاللّٰہ، ایسی خصلتیں جمع ہیں جنھیں ہم دخترانِ ابلیس کے لیے بھی پسند نہ کریں؛ سو، اب اپنی راہ لیجیے، خدا آپ پر رحم کرے!‘‘ (طرائف ونوادر من الماضي والحاضر/ زاهر بدر الدين) [ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]