@ahsana4828: اے میرے مالک! ہمیں تو بس زندگی جینی تھی... یوں پل پل گھٹ کے گزارنی تو نہیں تھی۔ دل تھک گیا ہے اب درد کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے، آخر کب تک یہ اکیلاپن میرا دم گھوٹتا رہے گا؟ ہر نیا دن اک نیا عذاب بن کے ڈھلتا ہے، اور رات کی تنہائی روح تک کو چیر دیتی ہے۔ ہنستے ہوئے چہرے کے پیچھے وہ زہر چھپا ہے، جسے نگلتے نگلتے اندر سے سب ختم ہو چکا ہے۔ کتنی آذیّت ناک ہوتی ہے وہ خاموشی، جو سینے کے اندر ہر لمحہ ایک چیخ بن کے گونجتی ہے۔ ہم نے تو خوشیوں کا خواب دیکھا تھا، پر نصیب نے ہر قدم پر بس تڑپنا ہی لکھا۔ اب تو سانسیں بھی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہیں، جیسے ہر دھڑکن کسی سزا کا اعلان کر رہی ہو۔ کوئی نہیں سمجھ سکتا اس آذیّت کو، جو بند آنکھوں سے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں میں ہوتی ہے۔ ہم یوں ٹوٹے ہیں کہ اب خود کے وجود کو سمیٹنا بھی محال لگتا ہے۔ کاش! کوئی تو ایسا ہوتا جو اس بکھرتی ہوئی روح کو بنا کہے سینے سے لگا لیتا۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ دنیا نے ساتھ چھوڑ دیا، بلکہ صدمہ یہ ہے کہ جن پر مان تھا وہی داغ دے گئے۔ اب تو موت بھی ڈراتی نہیں، کیونکہ جس جیتی جاگتی آذیّت میں ہم ہیں، وہ موت سے بھی بدتر ہے۔ اے خدا! یا تو اس بوجھل دل کو سکون دے دے... یا پھر اس جینے کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دے۔🥲💔#unfreezemyacount #asthaticvibes