at least protest to hony dia tha na us waqat ab to name bi lo to utha lia jata ha
2026-08-01 18:32:30
10
Dr Salman Dhilllon :
Right
2026-07-31 16:02:12
24
AK Gaming Here :
student sloderity march 2019
2026-08-02 05:36:00
6
$H@HB@Z ÀkHTÂR :
👍 you are doing well ❤️🩹
2026-08-02 12:11:09
7
Muntaجib :
90% students don't know name of hec or education minister how do you think you gonna protest against education
2026-08-09 06:36:04
3
🫀. :
Mayra ak question jetnay bi revolution ayay hay chahay nepal ho bangladash ho kesi may foj shamil nahi hoi yaha pm foj select karti hay 😏
2026-08-03 19:02:05
0
๑ ˚ ͙𒆜╬━عَبْدالله ستی━╬𒆜๑ :
2026-09-07 12:53:37
0
Aحmad🇵🇰 :
Fake
2026-08-01 02:29:35
1
Mekaal khan :
Gaddar aur raw ka agent wala total jhoot h kal se kafi research ki ispe mene koi reference nai mila
2026-08-01 07:10:10
0
عمــر سلـطان :
ہمارے تجزیاتی مطالعے اور سیاسی افق پر جاری گفتگوؤں کو اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی کوئی مقرر یا تجزیہ کار اپنے ہی قائم کردہ مقدمات سے منحرف ہوتا ہے تو اس کا پورا بیانیہ دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا اور مرکزی دھارے پر وائرل ہونے والے ایک مباحثے میں جب ایک صاحب نے کاکروچ جنتا پارٹی کی مثال دیتے ہوئے پاکستان کے سیاسی ماحول اور طلبہ تحریکوں کا موازنہ شروع کیا تو شروع ہی میں ان کی گفتگو کا تضاد نمایاں ہو کر سامنے آ گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کوئی بیانیہ پاکستان میں ہوتا تو سب سے پہلے اسے گالیاں دی جاتیں، اور پھر 2019 کی طلبہ تحریک کا ذکر چھیڑ دیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس کی کمر توڑ دی گئی۔ لیکن حیرت کا مقام تب آتا ہے جب موصوف کا اپنا ہی حافظہ داغ دے جاتا ہے اور وہ اپنے ہی الفاظ سے خود کو غلط ثابت کر بیٹھتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کا پرمیشن سٹرکچر اتنا تنگ ہے کہ یہاں کسی انقلابی سوچ کے لیے جگہ نہیں بچی، جبکہ دوسری ہی سانس میں موصوف فرماتے ہیں کہ اس تحریک کی قیادت کرنے والے عمار علی جان خود باسٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے اچھے خاصے مراعات یافتہ پس منظر سے یہاں آئے تھے۔ اگر کوئی شخص اپنے ہی دلائل کا بغور جائزہ لے تو اسے معلوم ہو گا کہ ایک طرف آپ عوامی محرومیوں کا روگ رو رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کی اپنی ہی پیش کردہ مثالیں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ یہ تحریکیں غیر ملکی اور مراعات یافتہ طبقے کا مشغلہ تھیں۔ بات صرف متضاد دلائل تک محدود نہیں رہتی بلکہ اندازِ بیان پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے موصوف اپنے جذبات یا فکری بصیرت کا اظہار نہیں کر رہے بلکہ سامنے رکھے کاغذ پر لکھا ہوا اسکرپٹ کسی طوطے کی طرح رٹ کر پڑھے جا رہے ہیں۔ انسان کو کم از کم بولتے ہوئے یہ تو خیال رکھنا چاہیے کہ جو جملہ چند سیکنڈ پہلے ادا کیا گیا ہے، اگلا جملہ اس کی نفی نہ کر رہا ہو۔ جب پورا مقدمہ ہی لکھی ہوئی باتوں کی بلائنڈ ریڈنگ پر مبنی ہو تو پھر اسے سیاسی تجزیہ نہیں بلکہ رٹا مار تقریب ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ پوری صورتحال مجھے ایک پرانے مزاحیہ واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ ایک بار ایک صاحب بڑی گرم جوشی سے منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے اور انہوں نے ہاتھ ہوا میں لہرا کر پوری قوت سے کہا کہ خواتین و حضرات میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہ سننا تھا کہ سامنے پہلی صف میں بیٹھے ایک بابا جی اٹھے اور مسکرا کر بو
2026-08-02 23:43:59
0
💫 :
دراصل ملک چلانے والے ہر دور میں غدار ہی آئے ہیں جو اپنا آپ دوسروں پر ڈالتے ہیں
2026-08-02 18:51:21
0
انا پرست :
کیا کہو گے پی ٹی ائی والوں تم لوگوں نے بھی یہ سارے کام کیے ہوئے ہیں ٹی ایل پی کے لوگوں پر تم لوگوں نے بھی گولیاں چلائی ہوئی ہیں اتنے بولے نہ بنو عمران خان کے دور حکومت میں یہ سارے کام ہوئے
2026-08-09 15:38:23
0
Meer shahzaib Lashari :
❤️❤️❤️
2026-08-02 09:28:15
1
"کلاچی"🥹🖤" :
😘😘😘
2026-08-13 04:30:20
0
"کلاچی"🥹🖤" :
👑👑👑
2026-08-13 04:30:21
0
aliraza :
🥰🥰🥰
2026-09-01 16:47:01
0
Joshua :
💯💯💯
2026-08-07 08:15:58
0
Sadiq khan :
🥰🥰🥰
2026-07-31 22:24:29
0
To see more videos from user @engineer.saad.sha, please go to the Tikwm
homepage.