@abdul_malliik: سانحہ کویٹہ : شانگلہ کئ طرف ایک بار پھر درجنوں لاشیں روانہ : یہ سب اکثریت جوان ہیں ؟ جن کے بہت سے خواہشیں امیدیں تھی : جن میں اکثریت کا پیشہ یہ کوئلہ کان مزدوری نہیں ھوتا ھے بلکہ یہ انکی وقتی ضرورت ھوتی ھے کیونکہ بہت سے تعلیم حاصیل کرتے ہیں اور چھٹھیوں میں فیس کی کمای کے لیے ان موت کے کنوں کا رخ کرتے ہیں : یا کسی گھر میں بیمار کی علاج کی خاطر یا اور کسی وقتی ضروت کی خاطر اس موت کے کنویں جانے پر مجبور ھوتے ہیں: آور ادھر ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ھے : شانگلہ کے بڑے بڑے وزراء ارب پتی بن گئے مگر کوئلہ کان مزدور کے لیے جنت نظیر وادی شانگلہ میں نہ میرٹ پر کسی نوکری کا حصول ممکن ھے جب تک سفارش نہ ھو نہ کوئ رورزگار کے مواقع : اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ھے کہ یہ جوان عورتیں چھوٹے بچے جب بیوائیں یتیم بن جاتے ہیں تو ھزاروں کی تعداد میں یہ موجود ہیں شانگلہ میں مگر شرم کا مقام ان شانگلہ کے بڑے بڑے نام نہاد لیڈروں کو نہیں اتا کہ نہ غریبوں کے لیے کوئ لیبر کالونی نہ کوی مزدور سکول نہ کوئ مزدور ھسہتال نہ کوی ماہانہ وظیفہ نہ کوئ ان کا حال پوچھنے والا : جب ستر اسی فیصد مین پاور آپکو ایک ضلع دیتا ہیں تو حرام خور وں اس ضلع میں تو ان غریب ماؤں بیواں یتیم بچوں کے لئے کچھ سہولت تو دو : مگر نہیں : پچاس ارب تک شانگلہ میں فنڈ لایا گیا مگر کسی مزدور کا قسمت نہیں بدلا اگر قسمت بدلا ھے تو ان سیاسی اداکاروں کے بچوں اور انکے موجودہ نسل کا قسمت بدلا ھے : اللہ صبر دے پسماندگان کو اور شانگلہ والوں کو سمجھ عقل اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق دیں : شہید ھونے والوں کو جنت الفردوس :