@bisimchi: فرمانده عملیات هوایی حمله به پایگاه آمریکا: به ما گفتند که دو گردان پاتریوت در مسیرمان است و هیچ برگشتی وجود ندارد 🔹برای جلوگیری از رهگیری مجبور بودیم از بین دره‌ها با ارتفاع‌های کمتر از ۱۰۰ پا و ۵۰ پا پرواز می‌کردیم. 🔹وقتی روی پایگاه آمریکا شیرجه زدیم و بمب‌ها را رها کردیم، در محل تجمع نیروها و تجهیزات دشمن جهنمی به‌پا شد.

Bisimchi
Bisimchi
Open In TikTok:
Region: IR
Friday 31 July 2026 18:14:14 GMT
1496
146
3
0

Music

Download

Comments

samirmohamad61
🇳🇵🇳🇵Mohamad Samir🇳🇵🇳🇵 :
💝
2026-07-31 18:48:45
1
user9751216517320
Scrat mloniatiktok.com/@user97 :
💖💖💖
2026-07-31 18:30:01
0
sanaullah.ahmadi62
sanaullah ahmadi 999 :
♥️♥️♥️
2026-07-31 18:34:29
0
To see more videos from user @bisimchi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کوئٹہ: سورینج کی کوئلہ کان میں گیس کا خوفناک حادثہ، 36 سے زائد کان کنوں کی شہادت کی اطلاعات کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں واقع کوئلے کی کان میں گیس کے شدید دھماکے کے نتیجے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کان کے اندر زہریلی گیس بھر جانے اور دھماکے کی وجہ سے 36 سے 42 افراد کے شہید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوری بعد مقامی سطح پر ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں  حادثے کا شکار ہونے والے اکثر کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا جاتا ہے۔ غم زدہ لواحقین اور مقامی عوام نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری امداد کی اپیل کی ہے:  عوام اور سوگوار خاندانوں نے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام خان اور پاک فوج سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہدا کی میتوں کو باحفاظت اور جلد از جلد ان کے آبائی علاقے شانگلہ پہنچانے کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں۔ > نوٹ: ریسکیو آپریشن جاری ہے اور واقعے سے متعلق مزید مصدقہ اور مکمل معلومات موصول ہوتے ہی خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔ >
کوئٹہ: سورینج کی کوئلہ کان میں گیس کا خوفناک حادثہ، 36 سے زائد کان کنوں کی شہادت کی اطلاعات کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں واقع کوئلے کی کان میں گیس کے شدید دھماکے کے نتیجے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کان کے اندر زہریلی گیس بھر جانے اور دھماکے کی وجہ سے 36 سے 42 افراد کے شہید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوری بعد مقامی سطح پر ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں حادثے کا شکار ہونے والے اکثر کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا جاتا ہے۔ غم زدہ لواحقین اور مقامی عوام نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری امداد کی اپیل کی ہے: عوام اور سوگوار خاندانوں نے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام خان اور پاک فوج سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہدا کی میتوں کو باحفاظت اور جلد از جلد ان کے آبائی علاقے شانگلہ پہنچانے کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں۔ > نوٹ: ریسکیو آپریشن جاری ہے اور واقعے سے متعلق مزید مصدقہ اور مکمل معلومات موصول ہوتے ہی خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔ >

About