@kk._.king7: rate this edit 🫶 . #cristianoronaldo #viralvideo #explore #fyp #foryoupage

𝐊𝐈𝐍𝐆𝟕 👑
𝐊𝐈𝐍𝐆𝟕 👑
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 31 July 2026 21:09:09 GMT
12497
1427
28
27

Music

Download

Comments

sagorbhai052
Sagor vaii :
2026-08-09 10:59:18
0
santos_reliquia__
madruga :
CR7🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐🐐
2026-08-02 20:45:11
0
imissmyprimeonwz
I MISS MY PRIME ON WZ :
1000/10
2026-08-07 00:43:50
0
ummalezz.0
معتز احمد 🖤 :
كيف القصة
2026-08-09 03:38:16
0
guilhxsuper
🍀 𝕊𝕒𝕘𝕒𝕫🍀 :
primeiro manda salve
2026-07-31 21:12:53
1
To see more videos from user @kk._.king7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیرستان کے وسائل کس کے لیے؟ اور وزیرستان کے عوام کے لیے کیا؟ یہ ویڈیو صرف معدنیات سے بھرے ہوئے چند ٹرکوں کی ویڈیو نہیں، بلکہ یہ وزیرستان کے ہر اس انسان کے لیے ایک سوال ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس خطے کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ آج ہماری زمین سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں، بڑے بڑے ٹرک ہمارے علاقوں سے بھر کر لے جائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان وسائل کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟ اگر یہ وسائل پاکستان کے ہیں تو پھر وزیرستان کے عوام کو ان کا حق کیوں نہیں ملتا؟ اگر یہ قومی دولت ہے تو اس قومی دولت میں ان علاقوں کے لوگوں کا حصہ کہاں ہے جن کی زمین سے یہ دولت نکل رہی ہے؟ ہم نے برسوں سے کیا دیکھا؟ کبھی کرفیو، کبھی بم دھماکے، کبھی مارٹر گولے، کبھی ڈرون، کبھی ٹارگٹ کلنگ، کبھی آپریشن اور کبھی خوف و ہراس۔ ایک ایسا دن بھی مشکل سے گزرا ہے جب وزیرستان کا عام انسان اپنے گھر میں مکمل اطمینان کے ساتھ بیٹھا ہو، اپنے کاروبار پر سکون سے گیا ہو یا اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بے فکر ہوا ہو۔ ہماری نسلوں نے بدامنی کی قیمت ادا کی ہے۔ ہماری زمین نے قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے گھروں نے جنازے اٹھائے ہیں۔ ہمارے بازاروں نے خوف دیکھا ہے۔ ہمارے نوجوانوں نے بے روزگاری دیکھی ہے۔ مگر آج بھی سوال وہی ہے: ہمیں ملا کیا؟ دوسری طرف ہمارے سامنے یہ تاثر موجود ہے کہ بڑے بڑے حکمران، جرنیل، کرنل اور طاقتور سیاسی لوگ—چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے یا سیاسی جماعت سے ہو—اپنے لیے بڑے بڑے منصوبے، سہولیات، گاڑیاں، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری طیاروں تک کے انتظامات کر لیتے ہیں، مگر وزیرستان کے عام انسان کے لیے بنیادی سہولیات تک پوری نہیں کی جاتیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی ایک فرد نے اکیلے سب کچھ کیا ہے۔ ہمارا سوال پورے نظام سے ہے۔ اگر ریاست اپنے طاقتور لوگوں کے لیے وسائل اور سہولیات فراہم کر سکتی ہے تو وزیرستان کے بچوں کے لیے معیاری اسکول کیوں نہیں؟ اگر اربوں روپے کے منصوبے بن سکتے ہیں تو ہمارے لیے ہسپتال کیوں نہیں؟ اگر ہمارے پہاڑوں سے معدنیات نکالی جا سکتی ہیں تو ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کیوں نہیں؟ اگر ہماری زمین سے دولت پیدا ہو سکتی ہے تو ہمارے علاقوں میں سڑکیں، بجلی، پانی اور کاروبار کے مواقع کیوں نہیں؟ ہمیں صرف وسائل نکالنے کے وقت یاد نہ کیا جائے۔ جب معدنیات چاہیے ہوں تو وزیرستان یاد آ جائے، لیکن جب وزیرستان کے عوام کے حقوق، امن، روزگار، تعلیم اور صحت کی بات ہو تو ہمیں بھلا دیا جائے—یہ انصاف نہیں۔ ہم کسی قوم، صوبے یا عام پاکستانی کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم استحصال، ناانصافی اور اپنے وسائل پر اپنے حق سے محرومی کے خلاف ہیں۔ ہم یہ پوچھتے ہیں: وزیرستان کی زمین کس کی ہے؟ وزیرستان کے وسائل کس کے ہیں؟ اور اگر ہماری زمین اور ہمارے وسائل سے دولت پیدا ہو رہی ہے تو وزیرستان کے عوام کا حصہ کہاں ہے؟ ہمیں خیرات نہیں چاہیے۔ ہمیں اپنے وسائل کا شفاف حساب، قانونی حق، امن، تعلیم، صحت، روزگار اور باعزت زندگی چاہیے۔ وزیرستان کو مزید جنگ، خوف اور محرومی نہیں چاہیے۔ وزیرستان کے پہاڑوں سے دولت نکالنے سے پہلے وزیرستان کے لوگوں کے زخموں کا حساب بھی دینا ہوگا۔ #وزیرستان #خیبرپختونخوا #معدنیات #قدرتی_وسائل #وزیرستان_کے_وسائل
وزیرستان کے وسائل کس کے لیے؟ اور وزیرستان کے عوام کے لیے کیا؟ یہ ویڈیو صرف معدنیات سے بھرے ہوئے چند ٹرکوں کی ویڈیو نہیں، بلکہ یہ وزیرستان کے ہر اس انسان کے لیے ایک سوال ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس خطے کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ آج ہماری زمین سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں، بڑے بڑے ٹرک ہمارے علاقوں سے بھر کر لے جائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان وسائل کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟ اگر یہ وسائل پاکستان کے ہیں تو پھر وزیرستان کے عوام کو ان کا حق کیوں نہیں ملتا؟ اگر یہ قومی دولت ہے تو اس قومی دولت میں ان علاقوں کے لوگوں کا حصہ کہاں ہے جن کی زمین سے یہ دولت نکل رہی ہے؟ ہم نے برسوں سے کیا دیکھا؟ کبھی کرفیو، کبھی بم دھماکے، کبھی مارٹر گولے، کبھی ڈرون، کبھی ٹارگٹ کلنگ، کبھی آپریشن اور کبھی خوف و ہراس۔ ایک ایسا دن بھی مشکل سے گزرا ہے جب وزیرستان کا عام انسان اپنے گھر میں مکمل اطمینان کے ساتھ بیٹھا ہو، اپنے کاروبار پر سکون سے گیا ہو یا اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بے فکر ہوا ہو۔ ہماری نسلوں نے بدامنی کی قیمت ادا کی ہے۔ ہماری زمین نے قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے گھروں نے جنازے اٹھائے ہیں۔ ہمارے بازاروں نے خوف دیکھا ہے۔ ہمارے نوجوانوں نے بے روزگاری دیکھی ہے۔ مگر آج بھی سوال وہی ہے: ہمیں ملا کیا؟ دوسری طرف ہمارے سامنے یہ تاثر موجود ہے کہ بڑے بڑے حکمران، جرنیل، کرنل اور طاقتور سیاسی لوگ—چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے یا سیاسی جماعت سے ہو—اپنے لیے بڑے بڑے منصوبے، سہولیات، گاڑیاں، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری طیاروں تک کے انتظامات کر لیتے ہیں، مگر وزیرستان کے عام انسان کے لیے بنیادی سہولیات تک پوری نہیں کی جاتیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی ایک فرد نے اکیلے سب کچھ کیا ہے۔ ہمارا سوال پورے نظام سے ہے۔ اگر ریاست اپنے طاقتور لوگوں کے لیے وسائل اور سہولیات فراہم کر سکتی ہے تو وزیرستان کے بچوں کے لیے معیاری اسکول کیوں نہیں؟ اگر اربوں روپے کے منصوبے بن سکتے ہیں تو ہمارے لیے ہسپتال کیوں نہیں؟ اگر ہمارے پہاڑوں سے معدنیات نکالی جا سکتی ہیں تو ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کیوں نہیں؟ اگر ہماری زمین سے دولت پیدا ہو سکتی ہے تو ہمارے علاقوں میں سڑکیں، بجلی، پانی اور کاروبار کے مواقع کیوں نہیں؟ ہمیں صرف وسائل نکالنے کے وقت یاد نہ کیا جائے۔ جب معدنیات چاہیے ہوں تو وزیرستان یاد آ جائے، لیکن جب وزیرستان کے عوام کے حقوق، امن، روزگار، تعلیم اور صحت کی بات ہو تو ہمیں بھلا دیا جائے—یہ انصاف نہیں۔ ہم کسی قوم، صوبے یا عام پاکستانی کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم استحصال، ناانصافی اور اپنے وسائل پر اپنے حق سے محرومی کے خلاف ہیں۔ ہم یہ پوچھتے ہیں: وزیرستان کی زمین کس کی ہے؟ وزیرستان کے وسائل کس کے ہیں؟ اور اگر ہماری زمین اور ہمارے وسائل سے دولت پیدا ہو رہی ہے تو وزیرستان کے عوام کا حصہ کہاں ہے؟ ہمیں خیرات نہیں چاہیے۔ ہمیں اپنے وسائل کا شفاف حساب، قانونی حق، امن، تعلیم، صحت، روزگار اور باعزت زندگی چاہیے۔ وزیرستان کو مزید جنگ، خوف اور محرومی نہیں چاہیے۔ وزیرستان کے پہاڑوں سے دولت نکالنے سے پہلے وزیرستان کے لوگوں کے زخموں کا حساب بھی دینا ہوگا۔ #وزیرستان #خیبرپختونخوا #معدنیات #قدرتی_وسائل #وزیرستان_کے_وسائل

About