@qureshidx5: اتنے دکھی ہیں ہم کو مسرت بھی غم بنے
اتنے دکھی ہیں ہم کو مسرت بھی غم بنے امرت ہمارے ہونٹ سے مس ہو تو سم بنے روئے برنگ ابر فرشتے بھی گوندھ کر کس دشت اشک و آه کی مٹی سے ہم بنے کچھ اور بھی تو شیش محل راستے میں تھے کیوں ہم فقط نشانه سنگ ستم بنے آنکھوں کے سامنے ہے شکستہ ور سکوں ہم تک رہے ہیں دیر سے تصویر غم بنے ط بر سے ہیں دشت زیست میں ہم پر وہ سنگ و خشت یکجا سمٹ کے آئیں تو کوہ الم بنے ہم ایسے رکھ رکھاؤ کے فن کار کم بنے زیادہ لکھی گئی جو داستان مٹائی جتنے ہمارے ہاتھ تراشے قلم بنے زلقی وہ سرزمیں کہ جہاں دفن ہے شکیب وہ کیوں نہ اہل فن کے لیے محترم بنے
لیجے کے بائین میں چھپاتے ہیں دل کا!!!