@hamid_typist5: (مقام: ایک پرانا، گلی کے کونے کا چائے کا ڈھابہ۔ شام کا وقت۔ علی، حمزہ اور بلال ایک زنگ آلود لوہے کی میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ ٹیبل پر تین چائے کے ادھورے کپ پڑے ہیں۔) علی: (چائے کا سُپڑ کر کے گھونٹ لیتا ہے، پھر کپ رکھ کر دور خلا میں دیکھتا ہے) "حمزہ… ایک بات یاد رکھنا۔ یہ جو آج ہم تین بندے ایک ہی پراٹھا بانٹ کر کھا رہے ہیں نہ… یہ وقت ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔" بلال: (خشک پراٹھے کا آخری ٹکڑا چباتے ہوئے) "ہاں، بالکل! آئندہ شاید پراٹھا بھی نہ ملے۔ صرف چائے پر گزارا کرنا پڑے۔" علی: (بلال کو گھور کر) "تو چپ کر بلال! تجھ سے کوئی بڑی بات ہضم ہی نہیں ہوتی۔" (حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے) "حمزہ! جس دن میرا بزنس سیٹ ہو گیا، میری لائف کامیاب ہو گئی… اور تیرے گھر والوں نے تیری شادی طے کی… اس دن بھائی تیری بارات پر ایسا پیسہ اڑائے گا کہ پورا شہر دیکھتا رہ جائے گا!" حمزہ: (ہنس کر) "چل علی، باتیں نہ بنا۔ پہلے خود تو سیٹ ہو جا، پھر میری شادی کا سوچنا۔