@ameer_khaki_51214: حضرت بلھے شاہؒ کا ایک رمزی کلام اور اس کی صوفیانہ تشریح کلام پریم نگر وچ نو دروازے، دسواں صدر مقام پنج تھاں نے، چار تحصیلاں، مرکز خاص و عام چھ گورنر اس قلعے وچ، حاکم دو پہچان چوبیس ہزار ملازم، رمزاں عارف کرن پچھان ایہہ رمز حقیقی مخفی وچ، ناطق قرآن بلھے شاہ جیہڑا ایس دی رمز پچھانے اوہنوں مرشد کامل جان حضرت بلھے شاہؒ نے انسانی وجود کو ایک عظیم شہر یا قلعے سے تشبیہ دی ہے۔ اس شہر کے مختلف حصوں کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اہلِ تصوف کے نزدیک یہ پورا کلام انسان کے ظاہری اور باطنی وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 1۔ نو دروازے قرآنِ کریم میں انسان کی تخلیق پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اہلِ تصوف کے نزدیک یہاں نو دروازوں سے مراد انسانی جسم کے وہ نو ظاہری سوراخ ہیں: دو آنکھیں دو کان دو نتھنے ایک منہ پیشاب کی جگہ پاخانے کی جگہ یہ وہ راستے ہیں جن کے ذریعے انسان کا ظاہری عالم سے تعلق قائم رہتا ہے۔ 2۔ دسواں دروازہ (صدر مقام) بلھے شاہؒ نے فرمایا: "دسواں صدر مقام" اہلِ معرفت کے نزدیک اس سے مراد وہ باطنی مقام ہے جہاں انسان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ بعض صوفیاء اسے قلبِ مؤمن سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ بعض اسے شعورِ باطنی یا مقامِ مشاہدہ قرار دیتے ہیں۔ یہ تعبیر ایک صوفیانہ اصطلاح ہے، اسے قرآن و حدیث کی صریح نص نہیں سمجھا جاتا۔ 3۔ پانچ تھانے پانچ تھانوں سے مراد انسان کے پانچ ظاہری حواس ہیں: بصارت (دیکھنا) سماعت (سننا) شامہ (سونگھنا) ذائقہ (چکھنا) لامسہ (چھونا) یہ تمام حواس انسانی شخصیت کے محافظ بھی ہیں اور آزمائش کا ذریعہ بھی۔ 4۔ چار تحصیلاں یہ چار عناصر کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے: مٹی پانی ہوا آگ قدیم فلسفے اور طب (یونانی و اسلامی) میں انسانی جسم کی مادی ساخت انہی عناصر کے امتزاج سے بیان کی جاتی تھی۔ 5۔ چھ گورنر اہلِ تصوف کے مطابق یہاں لطائفِ ستہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ لطائف درج ذیل ہیں: لطیفۂ قلب لطیفۂ روح لطیفۂ سر لطیفۂ خفی لطیفۂ اخفی لطیفۂ نفس بعض سلاسل میں ان کی ترتیب اور تعداد میں معمولی اختلاف بھی ملتا ہے، تاہم ان کا بنیادی مقصد انسان کے باطن کی اصلاح اور تزکیۂ نفس ہے۔ لطائف کیا ہیں؟ جس طرح جسم کے اعضاء ہوتے ہیں اسی طرح اہلِ تصوف روحانی ادراک کے مختلف مراکز کو لطائف کہتے ہیں۔ لفظ لطیفہ کا معنی ہے: "باریک، مخفی اور لطیف حقیقت" صوفیاء کے نزدیک یہ وہ روحانی مراکز ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی معرفت، ذکر، محبت اور انوارِ الٰہی کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک صوفیانہ تربیتی اصطلاح ہے، جسے ہر مکتبِ فکر یکساں انداز میں بیان نہیں کرتا۔ جسم اور روح کا تعلق جسم کے چند بنیادی اعضاء ایسے ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی قائم نہیں رہ سکتی، مثلاً: دل دماغ پھیپھڑے گردے جگر اسی طرح اہلِ تصوف کے نزدیک روحانی زندگی بھی باطنی لطائف کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ جب انسان گناہوں، غفلت، تکبر، حسد، ریا اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے قلب پر غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔" (سورۃ المطففین: 14) دو حاکم "دو حاکم" کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں۔ بعض اہلِ تصوف کے نزدیک اس سے مراد: ظاہر باطن جبکہ بعض اسے: عقل قلب کے عنوان سے بھی بیان کرتے ہیں۔ چوبیس ہزار ملازم صوفیانہ تعبیر کے مطابق اس سے مراد انسان کی روزانہ تقریباً 24,000 سانسیں ہیں۔ ہر سانس انسان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔ اسی لیے صوفیاء نے کہا: جس سانس میں اللہ کا ذکر نہ ہو، وہ سانس خسارے میں گزری یہ ایک تربیتی اور اخلاقی نصیحت ہے، بلھے شاہؒ آخر میں فرماتے ہیں بلھے شاہ جیہڑا ایس دی رمز پچھانے، اوہنوں مرشد کامل جان یعنی جو انسان اپنے ظاہر و باطن کی حقیقت کو پہچان لے، نفس کی اصلاح کرے، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے، وہی حقیقی رہنمائی کا اہل ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرشد یا شیخ کا اصل کام یہ ہے کہ وہ انسان کو: قرآن سے جوڑے، سنت کی پیروی سکھائے، اخلاق سنوارے، نفس کا تزکیہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے۔ اگر کوئی شخص شریعت سے ہٹا کر غیر شرعی عقائد یا اعمال کی دعوت دے تو وہ حقیقی مرشد نہیں ہو سکتا۔ حاصلِ کلام حضرت بلھے شاہؒ کا یہ کلام انسانی وجود، تزکیۂ نفس، معرفتِ الٰہی اور باطنی اصلاح کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس میں بیان کردہ اعداد (نو دروازے، پانچ تھانے، چار تحصیلاں، چھ گورنر، چوبیس ہزار ملازم) صوفیانہ علامتیں ہیں، جن کا مقصد انسان کو اپنے اندر جھانکنے، نفس کا محاسبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لطائف، انوار اور باطنی مقامات کی یہ تشریحات اہلِ تصوف کی روحانی تعبیرات ہیں۔ انہیں قرآن و سنت کے قطعی عقائد کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ان کی اصل قدر اس وقت ہے جب وہ شریعتِ محمدی ﷺ کے دائرے میں رہ کر انسان کے اخلاق، عبادت، تقویٰ اور قربِ الٰہی میں اضافہ کریں۔