@vladochka348:

Vladochka💯
Vladochka💯
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 01 August 2026 16:46:54 GMT
21053
158
7
21

Music

Download

Comments

butchmabe6
Butch :
awww prettiest puppy
2026-08-08 23:39:12
0
willow_pillow_willow
♧willow♧ :
как она вас еще не загрызла? 😨
2026-08-01 16:55:57
3
sasha.eickenboom
Sasha Eickenboom :
2026-08-01 17:18:05
1
elliexxvx
🤍😽 :
Моя собака похожа на вашу
2026-08-02 19:44:50
1
To see more videos from user @vladochka348, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

`
`"محراب کے پیچھے مجبور انسان٫٫` ( پہلے ویڈیؤ ملاحظہ فرمائیں) محراب کے سامنے کھڑا امام صاحب ہمیں نماز پڑھاتے ہیں، قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں، دین کی تعلیم دیتے ہیں اور ہماری نسلوں کی دینی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ محراب کے پیچھے کھڑا یہ انسان اپنی زندگی کن حالات میں گزار رہا ہے؟ آخر امام صاحب بھی انسان ہیں۔ ان کی بھی ضروریات ہیں، ان کا بھی دل ہے، ان کے بھی بچے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم، گھر کا راشن، علاج معالجہ اور روزمرہ کے اخراجات بھی ہیں۔ کیا وہ مٹی کھلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں؟ *یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے!* بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مساجد کی کمیٹیوں کا رویہ ایسا ہے کہ مسجد کی تعمیر و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کرنے میں کوئی تردد نہیں ہوتا، لیکن جب امام صاحب اپنی تنخواہ میں معمولی اضافے کی درخواست کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موجودہ آمدن میں گزارا مشکل ہے، تو ان کی مشکلات سمجھنے کے بجائے انہیں ہٹانے کی تدبیریں سوچی جانے لگتی ہیں۔ *آخر ایسا کیوں ہے؟* کیا مسجد کی خوب صورتی ضروری ہے اور امام صاحب کی زندگی کی ضروریات غیر ضروری؟ کیا محراب کی تزئین و آرائش پر خرچ ہونے والا مال اہم ہے، مگر اس محراب کے پیچھے کھڑے انسان کی بنیادی ضروریات کی کوئی قدر نہیں؟ کچھ جگہوں پر امام صاحب کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے کہ ان کی عزت و وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔ انہیں معمولی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہی امام ہماری نمازوں کی امامت کرتے ہیں، ہمارے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں اور انہیں دین کی بنیادی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ *یاد رکھیے!* امام صاحب کوئی مشین نہیں کہ صرف محراب میں کھڑے ہوں اور اپنی ذاتی ضروریات سے بے نیاز ہو جائیں۔ وہ بھی ایک گھر کے سربراہ ہیں۔ ان کے بھی احساسات ہیں، ان کے بھی مسائل ہیں اور انہیں بھی باعزت زندگی گزارنے کا حق ہے۔ یقیناً بعض جگہ امام صاحبان سے بھی غلطیاں ہوتی ہوں گی۔ ان کی اصلاح بھی ضروری ہے، مگر اصلاح کا راستہ *عزت* ، *حکمت* اور *خیرخواہی* ہے، نہ کہ تحقیر، بے توقیری اور معاشی دباؤ۔ *مساجد کی کمیٹیوں سے مؤدبانہ گزارش ہے:* اپنے امام صاحب کی تنخواہ ان کی ضروریات اور موجودہ معاشی حالات کے مطابق مقرر کریں۔ انہیں ایسا معاشی اطمینان فراہم کریں کہ وہ روزگار کی فکر سے آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ دینی خدمات انجام دے سکیں۔ جو امام اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہو، وہ اپنی تمام صلاحیتیں دینی خدمت کے لیے کیسے وقف کر سکے گا؟ *خدارا!* امام صاحبان کے حال پر رحم کیجیے۔ ان کی عزت کیجیے، ان کی ضروریات کو سمجھیے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کیجیے۔ محراب کے سامنے کھڑے امام کی عزت کرنا آسان ہے، مگر محراب کے پیچھے مجبور انسان کی مجبوری سمجھنا اصل امتحان ہے۔ *اللہ پاک ہم سب کو اپنے ائمۂ مساجد کی قدر کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔* آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔ ابو القلم اویس عطاری 15 ستمبر 2026

About