@hubnews4: *حب (بیوروچیف: اصغر علی کھوسہ)* حب چند روز قبل حب ندی میں نہانی کے دوران فرحان مگسی نامی نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گیا تھا گزشتہ روز اس کے ورثاء نے لسبیلہ پریس کلب میں مقدس کتاب اٹھا کر احتجاج کیا اور ضمیر مگسی اور الطاف مگسی پر قتل کا الزام عائد کیا۔ اس حوالےسے الطاف مگسی اور ضمیر مگسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس روز فرحان مگسی ڈوب کر ہلاک ہوا، اس وقت وہاں عمرانی، کھوسہ اور عباسی برادریوں کے نوجوان موجود تھے؛ یہ عینی شاہدین تصدیق کر سکتے ہیں کہ فرحان مگسی کی موت ڈوبنے کے حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے اور انہیں ناحق اس معاملے میں ملوث کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی فورم پر پیش ہونے اور کسی بھی فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ عمرانی برادری کے نوجوان سونو فقیر عباسی برادری کے نوجوان محمد خان عباسی اور کھوسہ برادری کے محمد یاسین کوسو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس دن فرحان مگسی نہاتی ھوئی ڈوب گیا تھا اس دوران ہم ان کے ساتھ تھے جبکہ اس کی موت جو ہے وہ قدرتی طور پہ ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی ہے اور ورثہ کی جانب سے لگائے گئے الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہیں جس کی انکوائری کرائی جائے