@glowup001_3: I want to grow my account #jokerquotes #virolvideo #fyp #foryoupage❤️❤️

CrownedInQuotes
CrownedInQuotes
Open In TikTok:
Region: KE
Saturday 01 August 2026 20:15:14 GMT
36693
2284
22
69

Music

Download

Comments

asanteyawkingsford
Asante Yaw Kingsford😎😎😎 :
No is a real talk bro
2026-08-01 23:45:32
2
annwanjiru525
Blessings 254 :
I love your content.....
2026-08-02 11:14:05
3
edwin.drake
Edwin Drake :
naah bro real talk
2026-08-02 11:34:23
3
bakari3481
Bakari :
speak up louder 💪
2026-08-03 16:25:50
1
mchelasea254
Chelsea fun :
song title
2026-08-06 15:08:14
1
youngtizokhan
Young Tizokhan :
Hell no
2026-08-04 07:46:44
1
lil_denoo10
_-Lil_Kade.64-_ :
😂😂
2026-08-07 12:03:55
0
imoleayomidekolawola
Habeeb imole👻👻💀 :
noooo u are not lie oooo
2026-08-01 23:19:20
2
jamesndambiri531
James Ndambiri :
nop
2026-08-07 15:01:56
1
521zip
kolino :
True 😂
2026-08-09 17:44:28
1
sean.bplusp
Sean BplusP :
Kkkkkkk true
2026-08-23 15:17:04
0
kwesi.vegas
Kwesi Vegas :
🥰🥰🥰
2026-08-21 03:17:19
1
kwesi.vegas
Kwesi Vegas :
😂😂😂
2026-08-21 03:17:24
0
To see more videos from user @glowup001_3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

1857 کی جنگ کے بعد ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون (موجودہ یانگون) جلاوطن کر دیا گیا۔ 17 اکتوبر 1858ء کو وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ رنگون پہنچے، جہاں انہیں ایک معمولی سی رہائش میں نظر بند کر دیا گیا۔ کبھی دہلی کے لال قلعے میں جس بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی تھی، جس کے دربار میں شاعر، موسیقار اور امراء جمع ہوتے تھے، وہ اپنی زندگی کے آخری برس ایک اجنبی سرزمین پر قید کی حالت میں گزارنے پر مجبور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے اسی جلاوطنی کے دوران اپنے درد کو الفاظ میں یوں بیان کیا:
1857 کی جنگ کے بعد ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون (موجودہ یانگون) جلاوطن کر دیا گیا۔ 17 اکتوبر 1858ء کو وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ رنگون پہنچے، جہاں انہیں ایک معمولی سی رہائش میں نظر بند کر دیا گیا۔ کبھی دہلی کے لال قلعے میں جس بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی تھی، جس کے دربار میں شاعر، موسیقار اور امراء جمع ہوتے تھے، وہ اپنی زندگی کے آخری برس ایک اجنبی سرزمین پر قید کی حالت میں گزارنے پر مجبور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے اسی جلاوطنی کے دوران اپنے درد کو الفاظ میں یوں بیان کیا: "لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں" 7 نومبر 1862ء کو بہادر شاہ ظفر کی طبیعت انتہائی خراب ہوئی۔ ان کی حالت بگڑنے پر خادمہ نے محافظوں کو اطلاع دی۔ آخرکار وہ اپنے آخری لمحات میں پہنچے اور اسی قید کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی تدفین بھی انتہائی سادگی سے کی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر ایسی جگہ بنائی گئی جہاں کسی شاہی شان و شوکت کا نشان تک موجود نہ تھا۔ یوں ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کا انجام اس عظیم سلطنت کے زوال کی ایک دردناک تصویر بن گیا۔ یہ منظر اس لیے بھی دل چیر دینے والا تھا کہ ایک وقت تھا جب دہلی میں ان کی تاج پوشی کے موقع پر جشن منایا گیا تھا۔ شاہی دربار سجا تھا، توپوں کی سلامی دی گئی تھی اور لوگ اپنے بادشاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ مگر چند دہائیاں بعد وہی بادشاہ اپنی سلطنت سے ہزاروں میل دور ایک معمولی رہائش میں قید تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی شکست صرف ایک بادشاہ کی شکست نہیں تھی، بلکہ یہ اس سلطنت کے زوال کی علامت تھی جو کبھی برصغیر کے بڑے حصے پر حکمران رہی تھی۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کا زوال صرف بیرونی دشمن کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اندرونی کمزوریاں، اقتدار کی کشمکش، نااہلی، خوشامد، بدانتظامی اور عوام سے بڑھتا ہوا فاصلہ بھی سلطنتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ 1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی تو بہادر شاہ ظفر کو علامتی قیادت تو حاصل ہوئی، مگر ان کے پاس وہ مضبوط اور منظم ریاستی طاقت موجود نہیں تھی جو ایک بڑی جنگ کا سامنا کر سکتی۔ بالآخر مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ گیا اور بہادر شاہ ظفر جلاوطن ہو گئے۔ ان کی زندگی کا آخری منظر آج بھی ایک بڑا سبق دیتا ہے: اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ تخت، تاج، محل اور اختیار سب وقت کے ہاتھوں چھن سکتے ہیں۔ جو حکمران عوام کا اعتماد کھو دیتے ہیں، اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور اپنے گرد صرف خوشامدیوں کا حصار قائم کر لیتے ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ بہادر شاہ ظفر کبھی ہندوستان کے بادشاہ تھے، مگر زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی ہی سلطنت سے دور، ایک اجنبی سرزمین پر قید تھے۔ تاریخ کا یہ باب آج کے حکمرانوں کے لیے بھی ایک خاموش پیغام ہے: اقتدار عارضی ہے، مگر عوام کا فیصلہ اور تاریخ کا حساب ہمیشہ باقی رہتا #fyp #fypシ #growmyaccount✅ #viraltiktok #foryourpage @👑 JHANG KING 👑

About