@nii_.ka: ہم جو ہر بار تیری بات میں آجاتے ہیں گھوم پھر کر اسی اوقات میں آجاتے ہیں جب اسے باقی نہیں رہتی ضرورت میری درجنوں عیب میری ذات میں آجاتے ہیں جا پہنچتے ہیں جہاں رزق بلاتا ہے ہمیں گھر سے چلتے ہیں مضافات میں آجاتے ہیں بجر کے دن تو عموما بھی نہیں ہیں آساں اور مجھ پر یہی برسات میں آجاتے ہیں ہم ستارے ہیں میسر نہیں آتے دن میں عشق زادوں کے لئے رات میں آجاتے ہیں ہاتھ کیا ہاتھ میں آتا ہے کسی کا میرے سارے حالات میرے ہاتھ میں آجاتے ہیں ۔ ۔ ۔ نعیم عباس ساجد #fyp #trending #poetry #explore