@fkstudio98: Time may fade, but mysteries never do. ⏳ Every detail tells a story without words. The past still inspires endless curiosity. Some wonders refuse to reveal their secrets. History always has another chapter to uncover. #AncientEgypt #AncientEgyptian #EgyptHistory #Pharaohs #AncientCivilization

fkstudio98
fkstudio98
Open In TikTok:
Region: GB
Sunday 02 August 2026 05:34:56 GMT
5818
444
11
58

Music

Download

Comments

zamajan369
Ancient untold mysteries :
nice
2026-08-27 06:24:43
0
nixonpierre87
MDN Food production Entrp. :
superbe réalisation
2026-08-02 10:23:05
0
sewerin.pompeo
sewerin pompeo :
😂😂😂 they had sun glasess??😬😬😬😬😬😬😬😬😬😅😅😅😅😅😅😅😅😅
2026-08-02 06:34:23
1
kevin.19784
Kevin 1978 :
Egypt forever 🔥 🇪🇬
2026-08-19 10:30:08
0
user1694313409173
Xavier :
Magnifique ! 😍
2026-08-02 15:07:16
0
souhila93
Coco la reine :
jamil☺️
2026-08-10 18:24:53
0
ma.nay.chi5213
Ma Nay Chi :
Yes
2026-08-11 14:34:13
1
martine..20
Martine :
🥰🥰
2026-08-10 09:04:37
0
soniapaparoni
soniapaparoni :
🥰🥰🥰
2026-08-03 21:18:09
0
adam.opaek
Adam Opałek :
💪💪💪
2026-08-02 07:39:41
0
zamajan369
Ancient untold mysteries :
💯💯💯
2026-08-08 09:04:57
0
To see more videos from user @fkstudio98, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

follow @S A L O ♥️ ایم ایم عالم کو جب زبردستی ریٹائر کیا گیا تو انہوں نے بطور احتجاج لگ بھگ دو دہائیوں تک اپنی پنشن وصول نہیں کی اور دوسری طرف والد کے جلد وفات کے باعث انہیں اپنے بھائیوں کی کفالت کرنا پڑی اور اس وجہ سے وہ اپنی شادی نہ کرسکے اور نہایت تکلیف دہ آخری ایام بھی گزارے۔۔۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ جہاز گرائے لیکن یہی ایم ایم عالم 1935 میں کولکتہ میں پیدا ہوئے اور انکا تعلق اُردو بولنے والی بہاری فیملی سے تھا۔ وہ 11 بہن بھائیوں کے سب سے بڑے بھائی تھے اور والد ایک سرکاری ملازم، لیکن جب دوسری جنگ عظیم میں جاچانی جہازوں نے کولکتہ پر بمباری کی تو ایم ایم عالم نے جہازوں کو تجسس سے دیکھا اور پائلٹ بننے کا سوچا لیکن اسی بیچ برصغیر تقسیم ہوا تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ ڈھاکہ منتقل ہوئے 1951 میں ہائر سیکنڈری ایجوکیشن مکمل کی اور پاکستان ائیر فورس میں فلائٹ کیڈٹ بھرتے ہوئے اور 1953 میں بطور فائٹر پائلٹ کمیشن لیا، ایم ایم عالم کو عروج 1965 کی جنگ میں اس وقت ملا جب بھارتی جہازوں نے سرگودھا ائیر بیس پر بمباری کی نیت سے حملہ کیا تو ایم ایم عالم اس وقت سرگودھا میں شمالی امریکی ایف 86 سبر کے سکواڈرن نمبر 11 کی کمانڈنگ آفیسر تھے اور انہوں نے کرانہ ہل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں ایک منٹ میں پانچ بھارتی جہاز مار گرائے جن میں سے 4 کو 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں گرایا تھا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ عالمی ریکارڈ ہے اور ابتدائی طور پر اسکا بھارتی فورسز نے انکار کیا اور بعدزاں انہوں نے اس مخصوص وقت میں دو یا تین جہازوں کو گرائے جانے کو تسلیم کیا لیکن پاکستان ایئر فورس کے مطابق ایم ایم ارم نے کل 9 بھارتی جہازوں کو گرایا اور جنگ کے بعد  پاکستان کے بہترین فائٹر اور ستارہ جرات کا ایواڈ اپنے نام کیا۔ 1968 میں ایم ایم نے سب سے پہلے پاکستان میں میراج طیاروں کو اڑانے اور کمانڈ کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور 70 کی دہائی میں شامی ائیر فورس کی ٹریننگ کے انہیں بھیجا گیا اور 1973 میں یوم کپور جنگ میں حصہ بھی لیا۔ ایم ایم عالم کے والد کی جلد وفات کے باعث انہیں اپنے 11 بہن بھائیوں کی خود کفالت  کرنا پڑی اور ان مصروفیات کے پاس وہ خود اپنی شادی نہ کر سکے البتہ ان کے بہن بھائیوں نے شعبہ تعلیم اور شعبہ سائنس میں ملازمت اختیار کی مگر مبینہ طور پر اپنے بھائی  ایم ایم عالم کو وہ اہمیت نہ دے سکے جسکی انہیں ضرورت تھی۔ 80 کی دہائی میں ایم ایم عالم کا پاکستانی ایئر فورس میں ہائی لیول پر اختلافات سامنے آئے اور انہوں نے مبینہ کرپشن کے الزامات عائد کئے  اور ٹاپ لیڈرشپ اور خصوصاً ائیر چیف مارشل انور شمیم پر الزامات لگائے تو انہیں لگ بھگ سائیڈ لائن کردیا گیا۔ 1982 میں انہیں پری میچور زبردستی ریٹائرمنٹ دے دی گئی اور اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیاسی تعیناتی یا تھنک ٹینک میں شمولیت کی دعوت دی جو ایم ایم عالم نے ٹھکرا دی۔۔۔ اکثر لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ایم ایم عالم کی پنشن کو روک دیا گیا تھا لیکن یہ سچ نہیں ہے بلکہ ایم ایم عالم نے بذات خود بطور احتجاج اپنی مراعات پنشن کو وصول کرنے سے انکار کر دیا،  کوئی دوسرا ذرائع امدن نہ ہونے کے باعث ایم ایم عالم کبھی فوجی میس میں رہتے تو کبھی مسجدوں میں دن گزارتے اور غریب بڑے بھائی کو وہ خاندانی اہمیت بھی نہ ملک سکی جس کے وہ حقدار تھے۔ اور یہ سلسلہ 2002 تک  مسلسل 20 سال چلا۔  ایئر چیف مارشل مصف علی میر 2002 میں اس معاملے کو سلجھانے لگے اور ایم ایم عالم کو چکلالہ میں خصوصی رہائش دی اور کافی کوششوں کے بعد ایم ایم عالم اپنی پنشن اور ریٹائرمنٹ کی مراعات لینے کو راضی ہوئے۔ اوائل جوانی سے ہی ایم ایم عالم غیر معمولی سگریٹ نوشی میں مبتلا تھے اور آخری ایام میں شدید بیمار ہوئے تو انکا علاج کئی مہینے پی این ایس شفا کراچی ہوا اور وہی انکا انتقال مارچ 2013 میں ہوا تو انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور انکے خدمات کے اعتراف میں لاہور کی ایک سڑک کا نام اور میانوالی کی ایئر بیس کا نام ایم ایم عالم رکھا گیا۔ میرے ذاتی خیال میں ایم ایم عالم نے دنیا بھر کی ملٹری میں قائم چین آف کمانڈ یا سنیارٹی یا آسان الفاظ میں قائم ڈسپلن کو بظاہر ڈسٹرب کیا تھا اور کوئی بھی ملک ہو یا فوج وہ اسے برداشت نہیں کرتی اور کیونکہ انہیں ملک گیر شہرت پہلے ہی مل چکی تھی تو اسی وجہ سے بطور سیٹلمنٹ جنرل ضیاء نے سیاسی تعیناتی آفر کی وگرنہ ایسے امور پر افواج بہت سخت سزائیں دیتی ہے۔ باقی ایم ایم عالم بنگلہ دیش واپس کیوں نہیں گئے تو اسکی وجہ انکا بہاری ہونا تھا اور انکے خاندان کو بھی 1971 میں ڈھاکہ چھوڑ کر کراچی ہجرت کرنا پڑی۔۔۔ قاسم سلیم #foryou #foryoupage #unfrezzmyaccount #growmyaccount #salo_lanjwani
follow @S A L O ♥️ ایم ایم عالم کو جب زبردستی ریٹائر کیا گیا تو انہوں نے بطور احتجاج لگ بھگ دو دہائیوں تک اپنی پنشن وصول نہیں کی اور دوسری طرف والد کے جلد وفات کے باعث انہیں اپنے بھائیوں کی کفالت کرنا پڑی اور اس وجہ سے وہ اپنی شادی نہ کرسکے اور نہایت تکلیف دہ آخری ایام بھی گزارے۔۔۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ جہاز گرائے لیکن یہی ایم ایم عالم 1935 میں کولکتہ میں پیدا ہوئے اور انکا تعلق اُردو بولنے والی بہاری فیملی سے تھا۔ وہ 11 بہن بھائیوں کے سب سے بڑے بھائی تھے اور والد ایک سرکاری ملازم، لیکن جب دوسری جنگ عظیم میں جاچانی جہازوں نے کولکتہ پر بمباری کی تو ایم ایم عالم نے جہازوں کو تجسس سے دیکھا اور پائلٹ بننے کا سوچا لیکن اسی بیچ برصغیر تقسیم ہوا تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ ڈھاکہ منتقل ہوئے 1951 میں ہائر سیکنڈری ایجوکیشن مکمل کی اور پاکستان ائیر فورس میں فلائٹ کیڈٹ بھرتے ہوئے اور 1953 میں بطور فائٹر پائلٹ کمیشن لیا، ایم ایم عالم کو عروج 1965 کی جنگ میں اس وقت ملا جب بھارتی جہازوں نے سرگودھا ائیر بیس پر بمباری کی نیت سے حملہ کیا تو ایم ایم عالم اس وقت سرگودھا میں شمالی امریکی ایف 86 سبر کے سکواڈرن نمبر 11 کی کمانڈنگ آفیسر تھے اور انہوں نے کرانہ ہل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں ایک منٹ میں پانچ بھارتی جہاز مار گرائے جن میں سے 4 کو 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں گرایا تھا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ عالمی ریکارڈ ہے اور ابتدائی طور پر اسکا بھارتی فورسز نے انکار کیا اور بعدزاں انہوں نے اس مخصوص وقت میں دو یا تین جہازوں کو گرائے جانے کو تسلیم کیا لیکن پاکستان ایئر فورس کے مطابق ایم ایم ارم نے کل 9 بھارتی جہازوں کو گرایا اور جنگ کے بعد پاکستان کے بہترین فائٹر اور ستارہ جرات کا ایواڈ اپنے نام کیا۔ 1968 میں ایم ایم نے سب سے پہلے پاکستان میں میراج طیاروں کو اڑانے اور کمانڈ کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور 70 کی دہائی میں شامی ائیر فورس کی ٹریننگ کے انہیں بھیجا گیا اور 1973 میں یوم کپور جنگ میں حصہ بھی لیا۔ ایم ایم عالم کے والد کی جلد وفات کے باعث انہیں اپنے 11 بہن بھائیوں کی خود کفالت کرنا پڑی اور ان مصروفیات کے پاس وہ خود اپنی شادی نہ کر سکے البتہ ان کے بہن بھائیوں نے شعبہ تعلیم اور شعبہ سائنس میں ملازمت اختیار کی مگر مبینہ طور پر اپنے بھائی ایم ایم عالم کو وہ اہمیت نہ دے سکے جسکی انہیں ضرورت تھی۔ 80 کی دہائی میں ایم ایم عالم کا پاکستانی ایئر فورس میں ہائی لیول پر اختلافات سامنے آئے اور انہوں نے مبینہ کرپشن کے الزامات عائد کئے اور ٹاپ لیڈرشپ اور خصوصاً ائیر چیف مارشل انور شمیم پر الزامات لگائے تو انہیں لگ بھگ سائیڈ لائن کردیا گیا۔ 1982 میں انہیں پری میچور زبردستی ریٹائرمنٹ دے دی گئی اور اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیاسی تعیناتی یا تھنک ٹینک میں شمولیت کی دعوت دی جو ایم ایم عالم نے ٹھکرا دی۔۔۔ اکثر لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ایم ایم عالم کی پنشن کو روک دیا گیا تھا لیکن یہ سچ نہیں ہے بلکہ ایم ایم عالم نے بذات خود بطور احتجاج اپنی مراعات پنشن کو وصول کرنے سے انکار کر دیا، کوئی دوسرا ذرائع امدن نہ ہونے کے باعث ایم ایم عالم کبھی فوجی میس میں رہتے تو کبھی مسجدوں میں دن گزارتے اور غریب بڑے بھائی کو وہ خاندانی اہمیت بھی نہ ملک سکی جس کے وہ حقدار تھے۔ اور یہ سلسلہ 2002 تک مسلسل 20 سال چلا۔ ایئر چیف مارشل مصف علی میر 2002 میں اس معاملے کو سلجھانے لگے اور ایم ایم عالم کو چکلالہ میں خصوصی رہائش دی اور کافی کوششوں کے بعد ایم ایم عالم اپنی پنشن اور ریٹائرمنٹ کی مراعات لینے کو راضی ہوئے۔ اوائل جوانی سے ہی ایم ایم عالم غیر معمولی سگریٹ نوشی میں مبتلا تھے اور آخری ایام میں شدید بیمار ہوئے تو انکا علاج کئی مہینے پی این ایس شفا کراچی ہوا اور وہی انکا انتقال مارچ 2013 میں ہوا تو انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور انکے خدمات کے اعتراف میں لاہور کی ایک سڑک کا نام اور میانوالی کی ایئر بیس کا نام ایم ایم عالم رکھا گیا۔ میرے ذاتی خیال میں ایم ایم عالم نے دنیا بھر کی ملٹری میں قائم چین آف کمانڈ یا سنیارٹی یا آسان الفاظ میں قائم ڈسپلن کو بظاہر ڈسٹرب کیا تھا اور کوئی بھی ملک ہو یا فوج وہ اسے برداشت نہیں کرتی اور کیونکہ انہیں ملک گیر شہرت پہلے ہی مل چکی تھی تو اسی وجہ سے بطور سیٹلمنٹ جنرل ضیاء نے سیاسی تعیناتی آفر کی وگرنہ ایسے امور پر افواج بہت سخت سزائیں دیتی ہے۔ باقی ایم ایم عالم بنگلہ دیش واپس کیوں نہیں گئے تو اسکی وجہ انکا بہاری ہونا تھا اور انکے خاندان کو بھی 1971 میں ڈھاکہ چھوڑ کر کراچی ہجرت کرنا پڑی۔۔۔ قاسم سلیم #foryou #foryoupage #unfrezzmyaccount #growmyaccount #salo_lanjwani

About