انسان کی طلب جب حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو وہ اسے قربانیوں کی ایسی مقتل گاہ میں لے آتی ہے جہاں اسکے وجود کے اتنے ٹکڑے ہوتے ہیں پوری کائنات میں روئی کے ذروں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ جو کہ اگر انسان سمیٹنا چاہے بھی تو سمیٹ نہیں پاتا۔ پھر اسکا وجود جیتے جی فنا ہو جاتا ہے اور باقی رہتا ہے تو صرف نام اللہُکا۔ ایسے میں اللہُانسان کو یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی اور جو مجھ (پروردگارِ) سے زیادہ طاقت اور اختیار رکھتا ہو تجھ پہ جو کہ بگڑی بنا دے تیری اور تجھے میرے (اللہُ) کے غضب سے بچائے؟ اور تیری پناہگاہ بنے! ایک رینڈم پرسن کی حیثیت سے کچھ لکھا ہے۔ امید ہے creator صاحب برا نہیں منائیں گے۔ شکریہ
2026-08-03 15:37:20
1
AMJAD :
❤️❤️❤️
2026-08-02 11:36:43
1
Naz Ír :
🌹🌹🌹
2026-08-02 17:31:56
0
Zubair Awan :
💙💙💙
2026-08-02 15:49:43
0
🔥❤️SS-IK🔥💔 :
🥰🥰🥰
2026-08-02 12:19:34
1
❣️kamli jutti❣️ :
🥺🥺🥺
2026-08-03 17:48:28
1
To see more videos from user @khalils736, please go to the Tikwm
homepage.