@zarmuhammad691: غارِ حرا مکہ مکرمہ میں جبلِ نور کی چوٹی پر واقع ایک مقدس غار ہے، جو مسجد الحرام سے تقریباً 5 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ غار اسلامی تاریخ میں اس لیے نہایت اہم ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں نبی کریم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ اہم تاریخی حقائق: * نبی اکرم ﷺ نبوت سے پہلے عبادت، غور و فکر اور تنہائی اختیار کرنے کے لیے رمضان کے مہینے میں غارِ حرا تشریف لے جاتے تھے۔ * جب آپ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً 40 سال تھی (610ء)، تو حضرت جبرائیلؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی وحی لے کر اسی غار میں حاضر ہوئے۔ * پہلی نازل ہونے والی آیات سورۂ علق کی ابتدائی آیات تھیں: “اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ…” * یہی واقعہ نبوت کے آغاز اور قرآنِ مجید کے نزول کی ابتدا تھا۔ غار کی خصوصیات: * غار چھوٹا ہے اور اس میں تقریباً 4 سے 5 افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ * اس کی لمبائی تقریباً 3 تا 4 میٹر اور چوڑائی تقریباً 1 سے 2 میٹر ہے۔ * غار جبلِ نور کی چوٹی پر واقع ہے، جہاں تک پیدل چڑھ کر پہنچا جاتا ہے۔ غارِ حرا مسلمانوں کے لیے ایک عظیم تاریخی یادگار ہے، لیکن شریعت میں اس کی زیارت کو حج یا عمرہ کا لازمی حصہ قرار نہیں دیا گیا۔ لوگ اس مقام پر اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے کی یاد تازہ کرنے کے لیے جاتے ہی#