@danichela18: آہ.. چاچا ریاض بھی چل دیے ... 24 جولائی2026ء کو رات بارہ کر ایک منٹ پر پرنسپل پروفیسر مہدی حیات خان صاحب نے ٹیچنگ سٹاف کے گروپ میں ایک میسج بھیجا: *خبرِ غم* "چوہدری ریاض(کالج میٹ ) بقضائے الٰہی وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ صبح 9 بجے بلال مرکز ادا کی جائے گی۔" پیغام پڑھا تو دل بیٹھ سا گیا ،خیال آیا کہیں یہ چاچا ریاض تو نہیں. ان کی برادری کے کچھ لوگوں کو اسی وقت میسج کیا لیکن ان کا جواب نہیں آیا تو بے چینی بڑھتی گئی. صبح جا کر کنفرم ہوا یہ اپنے چاچا ریاض ہی ہیں جو آج کل کالج بس پر اپنی ڈیوٹی دیتے تھے.. انا للہ وانا الیہ راجعون ... گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ سے تعلق خاطر رکھنے والے ہر شخص نے ریاض صاحب کا نام سنا ہوگا جو وقت کے ساتھ ساتھ چاچا ریاض کہلانے لگے.. چاچا ریاض کا اصل نام چودھری ریاض حسین تھا. انھوں نے گورنمنٹ کالج جھنگ کو 1989 میں جوائن کیا. ان کا تقرر تو بطور بیلدار ہوا تھا لیکن وہ ہر فن مولا تھے اور ہمہ قسم ڈیوٹیاں کرنے کی وجہ کالج انتظامیہ کے لیے بہت اہم کارکن.. کالج کا کوئی کام ہو سالانہ بین الاکلیاتی تقریبات ہوں یا سیمینار، کسی شعبہ کی ویلکم پارٹی ہو یا الوداعی پارٹی، مشاعرہ ہو یا محفل موسیقی، ابن خلدون ہال کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری چاچے ریاض کے سر پر ہوتی تھی. سالانہ کھیلوں کے سلسلے گراؤنڈ سیٹ کرنا ہو یا کالج میں کسی کمرے کا پنکھا نہ چل رہا تو سب نے کہنا چاچے ریاض کا نمبر ملائیں، کہیں بجلی نہیں، بجلی کا بورڈ خراب ہے، بلب یا ٹیوب لائٹس ٹھیک کرانی ہیں تو چاچا ریاض،چھت والے پنکھے کا ایشو ہے یا پانی والی موٹر جل گئی ہے تو چاچا ریاض، کمرے میں کرسیاں کم ہیں، کرسیاں بُنوانی ہیں تو چاچا ریاض. الغرض کوئی بھی کام ہو سب سے پہلے چاچا ریاض یاد آتا تھا اور چاچے ریاض نے کبھی انکار نہیں کیا تھا.. پورے کالج کے مسائل ایک طرف اور چاچا ریاض ایک طرف.. یہی وجہ تھی چاچا ریاض نے ملازمت کے دوران جب پیشگی ریٹائرمنٹ لینا چاہیے تو اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر ملا خان حیدری صاحب نے کہا جب تک میں پرنسپل ہوں تم نہیں جا سکتے.. 2021ء میں 32 سال کالج کی خدمت کر کے ریٹائرمنٹ لی تو موجودہ پرنسپل صاحب نے انھیں بلا لیا اور پرائیویٹ طور پر رکھ لیا کہ یار تم گھر میں رہ کر بیمار ہو جاؤ گے اپنی مصروفیت بنائے رکھو کالج کی محبت میں گرفتار چاچا ریاض انکار نہ کر سکا اور دوبارہ کالج آنا شروع ہو گیا.. کافی عرصہ سے ان کی صحت کے مسائل شروع ہو گئے تھے لیکن انھوں نے کبھی اپنی بیماری کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا. ان کی وفات کے بعد ان کے ایک عزیز نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کے باعث ان کے پھیپھڑے خراب ہو گئے تھے 23 جولائی2026ء کو ان کی حالت بہت خراب ہو گئی آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انھیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا لیکن چاچا جی شب ساڑھے گیارہ بجے اللہ کے حضور پیش ہو گئے. انا للہ وانا الیہ راجعون موت برحق ہے لیکن چاچا ریاض کا دنیا سے یوں اچانک رخصت ہونا ان کے چاہنے والوں کو اداس کر گیا ہے. کالج کے ساتھ ان کی 37 سالہ رفاقت مدتوں یاد رکھی جائے گی. اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین تمام کاروانینز چاچا ریاض حسین کے انتقالِ پُر ملال پر ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں. اور چاچا جی کے لیے ہر لمحہ دعا گو ہیں اللہ تعالیٰ چاچا ریاض حسین کی اگلی منزلیں آسان فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین#😭😭😭😭😭😭💔💔💔💔