@tahri_tv: مرشد کی محبت اور عشق مرید کے دل میں مرشد کی محبت اور عشق، مرید کے ذہن کو آب و تاب بخشتا ہے. مرید مرشد کی شخصیت کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیے تصور کی قوت سے کام لیتا ہے. اس بات کے لیے مرشد کا تصور کرایا جاتا ہے تاکہ تصور کے ذریعے مرشد سے قائم ذہنی تعلق توانا ہوجاے. چنانچہ جب کوئی مرید اپنے مرشد کا تصور کرتا ہے تو مرشد کی صفات اور مرشد کی صلاحیتیں اس کی روح میں گردش کرنے لگتی ہیں. جتنی دیر وہ مرشد کی طرف متوجہ رہتا ہے. مرشد کی صفات اور اس کے انوار مرید کے ذہن کی سطح پر عکس ریز ہوتے رهتے ہیں. تصور کی مسلسل مشق سے مرید کے اندر ایک ایسی کیفیت مستحکم ہوجاتی ہے جس سے اس کا روحانی ربط ہر وقت مرشد کی ذات سے قائم ہوجاتا ہے. اس کے اندر معرفت الہی کی صلاحیت مسلسل منتقل ہوتی رہتی ہے. ایک وقت ایسا آتا ہے جب مرید اپنے مرشد کا عکس بن جاتا ہے. اس مقام کو تصوف میں "فنا فی الشیخ" کا نام دیا جاتا ہے اور مرشد کے تصور کو تصور شیخ کہتے ہیں