میں شیعہ ہوں الحمداللہ۔۔۔ لیکن مولانا کی ایک ایک بات درست ہے بالکل بجا فرما رہے ہیں
2026-08-03 00:25:09
5
asi :
ماشاءاللہ بہت خوب پیر صاحب نے بحت اچھا فرمایا
2026-08-03 01:26:00
1
abidnajeeb :
بہت خوب صورت بات کی ہے علامہ صاحب نے
2026-08-02 21:17:27
7
rana danish :
واہ مولانا واہ کیا جواب دیا سلام ہے
2026-08-02 22:31:51
4
M.inzamam🇦🇪 :
کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے وہاں محافلِ نعت کا ادب اور اسٹیج کا احترام بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی آمد کے موقع پر مدینہ کی بچیوں کا طلع البدر علينا پڑھنا اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس میں خوشی اور استقبال کے لیے دف کا استعمال ہوا اسی بنا پر امت کے بیشتر علمائے کرام بالخصوص سلسلہ چشتیہ اور دیگر صوفیائے کرام کے ہاں ادب و احترام کے ساتھ دف کے ساتھ کلام پڑھنے کی روایت صدیوں سے قائم ہے۔ اگر کسی عالمِ دین کا فقہی موقف دف کے عدمِ جواز کا ہے تو وہ ان کی رائے ہو سکتی ہے اور ان کو اپنا موقف بیان کرنے کا حق بھی حاصل ہے لیکن اس کے اظہار کا طریقہ کار اور وقت نہایت اہم ہوتا ہے۔ جب اشتہار اور پروگرام کی ترتیب سے عالمِ صاحب کے علم میں یہ بات پہلے سے موجود تھی کہ نعت خوان دف کے ساتھ کلام پیش کرتا ہے تو ایسی صورت میں محفل کے دوران اسٹیج پر آ کر یکلخت اس کو بند کروانا اور تنقید کا نشانہ بنانا نہ صرف نعت خوان کی تذلیل کا سبب ہے بلکہ مجلس کے سکون اور محفل کے روایتی قدس و احترام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک جید عالمِ دین اکا کردار ہمیشہ حکمت بصیرت اور اصلاح پر مبنی ہونا چاہیے جہاں اگر کوئی اختلافِ رائے تھا بھی تو اسے محفل سے پہلے منتظمین یا متعلقہ فرد سے تنہائی میں اخلاق کے دائرے میں رہ کر حل کیا جا سکتا تھا تاکہ اسٹیج کے وقار اور محفل نعت کی برکت کو قائم رکھا جا سکتا۔
2026-08-02 23:00:08
4
BALOCH JHANG DA :
بہت خوبصورت بات کی
کمال کر دیا
2026-08-02 21:05:16
3
Ansarnaz :
wah wah wah ilama sahb zbbrdst
2026-08-02 19:06:55
1
Muhammad tayyab :
ماشاءاللہ اپ نے سچ کہا
2026-08-02 19:48:06
2
To see more videos from user @kaleemraza765, please go to the Tikwm
homepage.