@ababeel6335385: #کبھی کبھی زندگی ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں حقیقت اور خیال کے درمیان فاصلہ دھندلا سا جاتا ہے۔ دل کے اندر چھپے ہوئے خوف، ادھوری یادیں اور دبے ہوئے احساسات اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ خاموشی بھی بولنے لگتی ہے، اور وہ سب کچھ محسوس ہونے لگتا ہے جو اصل میں موجود نہیں ہوتا۔ ایسے لمحوں میں انسان اپنے ہی ذہن کے بنائے ہوئے سائے دیکھتا ہے اور اپنی ہی سوچوں کی آوازیں سنتا ہے۔ یہ کیفیت کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ اندر کے بوجھ اور جذبات کی شدت کا عکس ہوتی ہے، جو لفظوں میں ڈھل کر صرف ایک ہی بات کہتی ہے کہ دل بہت تھک چکا ہے اور اسے سکون چاہیے.