Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@zainyy._.here: #fyp
•زینب🩶
Open In TikTok:
Region: PK
Sunday 02 August 2026 18:41:57 GMT
3923
280
5
22
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.28MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.28MB
)
Watermark .mp4 (
2.68MB
)
Music .mp3
Comments
❣️شاہزیب شیخ✨ :
true 😔😔😔
2026-08-07 19:58:54
0
Khuram Zainab :
right 👍
2026-08-03 11:27:17
0
MAلIK_🦅 :
hmm
2026-08-04 08:38:22
0
Malik Ali 💞 :
🥺🥺🥺
2026-08-02 18:52:47
0
ali :
🥰🥰
2026-08-03 03:05:34
0
To see more videos from user @zainyy._.here, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
আমরা কেনো বার বার ভুলে যাই 😅। #plz_unfreze_my_account🙏 #টিকটক_বাংলাদেশ_অফিসিয়াল🇧🇩🇧🇩 #creatorsearchinsights2026 #fypppppppppppppppppppppp #inshallahviral
VODY toffe is out now #fypシ゚viral #trending #
ياكذبي لو بقول أنسااااااااااااك ياساكن في هنا وهناااااااااك انا من كثر مااحبك تمر وتاخذك عيني #احلام #احلام_الشامسي #fyp #foryou #اكسبلور
||»𝐓𝐚𝐠 𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐁𝐫𝐨𝐭𝐡𝐞r✨🫠❤️🫂 #fypシ#fyp#fypシ゚viral #foryou#viwesproblem(Tiktok team don’t underreview my vedio )
#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌 🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀 📜 شعر: "عشق بھی کرتے ہو اور سکون بھی چاہتے ہو غالبؔ بڑے نادان ہو زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو" 🌷 تشریح: اس خوبصورت شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کے ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ شعر کا پہلا مصرعہ انسان سے مخاطب ہے کہ تم عشق جیسی طوفانی اور بے چین کر دینے والی کیفیت میں مبتلا ہو، اور پھر بھی دل کے سکون اور چین کی امید رکھتے ہو؟ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں ہیں۔ شعر کے دوسرے حصے میں شاعر نے عشق کو "زہر" سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عشق کرنا ایسا ہی ہے جیسے جان بوجھ کر زہر کا پیالہ پی لینا۔ اب جب تم نے خود ہی زہر پی لیا ہے، تو پھر زندگی اور سلامتی کی دعا مانگنا نادانی اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر تمہیں زندگی پیاری تھی، تو زہر کیوں پیا؟ اور اگر زہر پی لیا ہے، تو موت کے لیے تیار رہو۔ 💬 تفصیل: غالب نے اس شعر میں عشق کے راستے کی صعوبتوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی بے چینی کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک عشق کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے آرام، سکون اور بسا اوقات جان کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے عشق کی خوشیاں اور لذتیں ملیں، لیکن وہ اس کے ساتھ آنے والے درد، تکلیف، اور بے قراری سے بچنا چاہتا ہے۔ غالب اس رویے کو "نادانی" قرار دیتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ عشق کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو اس کے تمام نتائج، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سکون اور آرام کی تمنا اس راستے پر چلنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ شعر ایک طرح سے حقیقت پسندی کا سبق دیتا ہے کہ ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے، اور ہم نتائج سے بچ نہیں سکتے۔
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy