@dailynawaiwafaq: کراچی بنارس پٹھان کالونی کے درمیان واقع پل اور مرکزی واٹر پائپ لائن کے اطراف مبینہ طور پر منشیات کی کھلے عام خرید و فروخت کے حوالے سے اہلِ علاقہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اینٹی نارکوٹکس فورس اور سندھ پولیس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اہلِ علاقہ کی جانب سے جاری کردہ ایک کھلے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ مقام پر مبینہ طور پر ہیروئن اور دیگر منشیات کا کاروبار جاری ہے، جس کے باعث نوجوان نسل، خواتین اور دیگر افراد اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ علاقے کی جغرافیائی تقسیم تین مختلف اضلاع اور متعلقہ تھانوں کی حدود سے منسلک ہونے کے باعث کارروائی کے حوالے سے حد بندی کا مسئلہ پیدا کیا جاتا ہے، جس سے مبینہ طور پر منشیات فروش فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ خط میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنارس، پٹھان کالونی اور گردونواح کے مکین اس صورتحال کے باعث شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اگر کوئی شہری آواز بلند کرے تو اسے مختلف خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اہلِ علاقہ نے کہا ہے کہ منشیات کے مبینہ اڈوں کے باعث پورے علاقے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ شہریوں نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک اور ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے فوری گرینڈ آپریشن کریں، منشیات کے مبینہ اڈوں کا خاتمہ یقینی بنائیں اور اگر کسی فرد یا اہلکار کی سرپرستی یا غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے