باتوں پر کافی حد تک اتفاق ملتا ہے:
حضرت فاطمہؑ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی تدفین رات کے وقت کی جائے۔
ان کی وصیت کے مطابق ان کے شوہر علی بن ابی طالب نے ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور تدفین کا انتظام کیا۔
نمازِ جنازہ بھی حضرت علیؑ نے ہی پڑھائی۔ شیعہ علماء کا یہی مشہور موقف ہے، اور متعدد سنی تاریخی کتابوں میں بھی یہی نقل ہوا ہے۔
چند معتبر تاریخی حوالے:
الطبقات الکبریٰ
تاریخ الطبری
الاستیعاب
بحار الانوار
ان روایات کے مطابق حضرت علیؑ نے چند قریبی اصحاب (جیسے حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت مقدادؓ اور حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں بعض روایات میں ذکر ملتا ہے) کے ساتھ رات میں نمازِ جنازہ ادا کی اور تدفین کی۔
2026-08-04 06:56:31
0
To see more videos from user @user3216287452159, please go to the Tikwm
homepage.