@drnomi4592gmail.com: *صدر صدام حسین اور اسرائیل* صدام حسین کا اسرائیل کے خلاف موقف عراقی سیاست کا ایک بڑا حصہ تھا۔ اس کے چند اہم نکات یہ ہیں: *1. سیاسی اور نظریاتی موقف* صدام حسین نے خود کو "عرب قوم پرستی" اور "فلسطینی کاز" کا حامی پیش کیا۔ وہ اکثر تقریروں میں اسرائیل کو "صہیونی ریاست" کہہ کر تنقید کرتے تھے اور فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کرتے تھے۔ *2. 1991 کی خلیجی جنگ میں میزائل حملے* سب سے مشہور واقعہ 1991 میں ہوا جب عراق نے کویت پر قبضے کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑی۔ اس دوران عراق نے اسرائیل پر تقریباً 39 "سکڈ" میزائل داغے۔ مقصد: عرب ممالک کو اسرائیل کے خلاف متحد کرنا اور اتحادی اتحاد کو توڑنا تھا، کیونکہ اگر اسرائیل جوابی حملہ کرتا تو سعودی عرب اور دیگر عرب اتحادی امریکہ کا ساتھ چھوڑ سکتے تھے۔ اسرائیل نے اس وقت امریکی دباؤ پر جوابی کارروائی نہیں کی۔ *3. فلسطینیوں کی مالی امداد* 1990 کی دہائی اور 2000 کے اوائل میں عراق نے ان فلسطینی خاندانوں کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا جن کے افراد اسرائیلی کارروائیوں میں مارے گئے یا جیل میں تھے۔ اسے وہ "شہداء کے خاندانوں کی مدد" کہتے تھے۔ *4. سفارتی تعلقات* عراق اور اسرائیل کے کبھی بھی سفارتی تعلقات نہیں رہے۔ صدام کے دور میں عراق نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ *نتیجہ* صدام حسین نے اسرائیل کے خلاف سخت عوامی اور فوجی موقف اپنایا، خاص طور پر فلسطین کے مسئلے کو اپنے بیانیے کا حصہ بنایا۔ لیکن 1991 کے میزائل حملوں کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست بڑی جنگ نہیں ہوئی #foryoupage #fypシ゚viral #foryoupage #vedio #foryou