@service.provider.69: ہم تو ہر شخص کی دنیا میں اضافی ہی رہے جیسے کتاب کے آخر میں رہ جانے والا وہ ورق جسے کوئی پڑھتا نہیں، مگر پھاڑتا بھی نہیں۔ ہم نے چاہا تھا کہ کسی کی دعا بن جائیں، کسی کی صبح کی پہلی مسکراہٹ، کسی کی شام کا آخری سکون، مگر قسمت نے ہمیں ہمیشہ "ضرورت ختم ہونے کے بعد" یاد آنے والوں میں رکھا۔ عجیب لوگ ہوتے ہیں نا... کچھ چہروں پر محبت ایسے سجتی ہے جیسے بہار پھولوں پر اترتی ہے، اور کچھ دل ہماری طرح ہر موسم میں خزاں ہی اوڑھے رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی تو چاہا تھا کہ کوئی بے وجہ ہمیں ڈھونڈے، ہماری خاموشی پڑھ لے، ہماری ہنسی کے پیچھے چھپی اداسی کو محسوس کرے، مگر ہر بار ہم ہی سمجھتے رہے، ہم ہی نبھاتے رہے، ہم ہی انتظار کرتے رہے۔ یار لوگ کیسے کسی کے لاڈلے ہو جاتے ہیں؟ کیسے ان کی ایک ضد پر زمانہ جھک جاتا ہے؟ کیسے ان کی ناراضی منائی جاتی ہے، اور ہماری وفاداری بھی اکثر معمول سمجھ لی جاتی ہے؟ شاید کچھ لوگ قسمت کی روشن سطروں میں لکھے جاتے ہیں، اور کچھ ہمارے جیسے حاشیوں میں، جہاں لفظ تو ہوتے ہیں مگر نظر کم ہی جاتی ہے۔ ہم نے محبت کو عبادت جانا، لوگوں نے سہولت۔ ہم نے رشتوں کو سانسوں کی طرح نبھایا، لوگوں نے موسموں کی طرح بدلا۔ اب شکوہ بھی نہیں کرتے، بس اتنا سمجھ آئے ہے کہ ہر اچھا انسان ہر کسی کی پہلی ترجیح نہیں بنتا۔ کچھ لوگ صرف دوسروں کی کہانیاں سنوارتے ہیں، اپنی کہانی میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ پھر بھی دل دعا دیتا ہے، کہ جنہیں ہم نہ مل سکے انہیں کوئی ایسا ضرور ملے جو ان کی خاموشیوں کو بھی محبت سمجھے۔ اور اگر کبھی قسمت کو ہم پر بھی رحم آ جائے، تو کوئی ایک شخص ایسا ہو جو ہمیں اضافی نہیں، اپنی ضرورت، اپنی عادت، اپنی دعا، اور اپنے نصیب کا سب سے خوبصورت حصہ سمجھے۔ #foryou #fyp #poetry