@alfaazic: سوچو زندگی سے اب کچھ نہ چاہنے والوں نے، کتنا کچھ چاہا ہوگا۔ یہ بات سن کر اکثر لوگ حیران رہ جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ چاہنے والوں کا دل سب سے زیادہ بھرا ہوتا ہے — مگر وہ سب چاہتوں کا بوجھ برداشت کرتے کرتے تھک چکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک وقت میں اتنی امیدیں باندھی تھیں، اتنی دعائیں مانگی تھیں، اتنی آرزوئیں پالی تھیں کہ جب وہ پوری نہ ہوئیں تو انہوں نے خود کو سمیٹ لیا، اپنی خواہشات کو دفن کر دیا، اور اب وہ خاموش ہیں۔ یہ خاموشی اطمینان نہیں، یہ شکست کا اعتراف ہے۔ یہ تھکن ہے، یہ زخموں کا جم جانا ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ اب مجھے کچھ نہیں چاہیے، وہ دراصل کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں نے بہت مانگا، مگر کسی نے سنا نہیں۔ اس لیے اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر مت بہکنا، کیونکہ شاید وہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے تمام باب ختم ہو چکے ہیں، اور اب اسے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ الفازک کہتا ہے کہ نہ چاہنے والے سب سے زیادہ چاہنے والے ہوتے ہیں، بس انہیں کبھی وہ ملا نہیں جس سے وہ چاہتے تھے۔ اس لیے جب کوئی تم سے کچھ نہ مانگے، تو سمجھ لو اس نے تم سے پہلے پوری دنیا سے مانگ کر تھک جانا سیکھ لیا ہے۔ #الفازک