@arwriter38: تم کہتی ہو مرد نہیں روتا... ہاں، شاید تم نے اُس کی آنکھوں سے آنسو گرتے ہوئے نہ دیکھے ہوں... مگر ذرا اُس مرد کے دل سے پوچھنا، جس نے اپنی بہن کو رخصت کیا اور رات کو اُس کا خالی کمرہ دیکھ کر خاموش بیٹھا رہا۔ اُس نوجوان سے پوچھو جو اپنے خواب بیچ کر اپنے گھر والوں کے خواب خریدتا ہے۔ اُس مسافر سے پوچھو جو برسوں گھر سے دور رہ کر صرف اپنوں کی خوشی کے لیے جیتا ہے۔ اُس بیٹے سے پوچھنا جس نے اپنے باپ کو قبر میں اتارا، مگر گھر آ کر سب کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرتا رہا۔ اُس انسان سے پوچھنا جس نے اپنی ماں کے جنازے کو کندھا دیا، پھر اُسی گھر میں داخل ہوا جہاں اب "بیٹا، کھانا کھا لو" کہنے والی کوئی آواز نہ تھی۔ اُس بھائی سے پوچھنا جس نے اپنے جوان بھائی کو سپردِ خاک کیا، مگر گھر والوں کے سامنے ایک آنسو بھی نہ بہایا، کیونکہ وہ جانتا تھاکہ اس کا ایک آنسوں شاید اس کی بزدلانہ حرکت سمجھا جاۓ اُس مزدور سے پوچھنا جو سارا دن دھوپ میں جلتا رہا، اور شام کو خالی جیب لیے بچوں کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔ مرد روتا ہے... بس اُس کے آنسو اکثر آنکھوں سے نہیں، ذمہ داریوں کے بوجھ تلے بہتے ہیں۔ وہ سجدوں میں روتا ہے، تنہائی میں روتا ہے، رات کے آخری پہر روتا ہے، مگر صبح پھر وہی مسکراہٹ اوڑھ کر گھر والوں کے لیے مضبوط بن جاتا ہے۔ مرد کمزور نہیں ہوتا... وہ صرف اپنے آنسو دوسروں سے چھپا لیتا ہے۔ تاکہ "مرد نہیں روتا" والے کہاوت جھوٹی ثابت نا ہو سکے #foryou #fyp