@hadarali517: ہم اکثر بڑی بڑی عبادات اور سنتوں کی ادائیگی میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنے گھر میں موجود سب سے بڑے فرض یعنی "والدین کی خدمت" کو بھول جاتے ہیں۔ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور والدین بالخصوص ماں کی رضا میں اللہ کی رضا رکھی گئی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انسان گھر میں موجود زندہ جنت (ماں) کو تنہا، بیمار اور دکھوں میں چھوڑ کر دور دراز کے روحانی سفر پر نکل جاتا ہے، تاکہ لوگ اسے متقی اور پرہیزگار کہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس پاؤں کے نیچے رب نے جنت رکھی ہے، اگر ان پاؤں کی دھول بھی ہم نے چومنا گوارا نہ کی، تو ہم چاہے کتنے ہی طواف کر لیں، ہمارا دل پاک نہیں ہو سکتا۔ اصل عبادت صرف مکہ و مدینہ کے سفر کا نام نہیں، بلکہ اپنے رشتوں کی قدر کرنا، ماں کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اور گھر کے اندر پھیلی ہوئی جنت کی حفاظت کرنا ہے۔ والدین کی ناراضگی کے ساتھ کی گئی کوئی بھی نیکی مکمل نہیں ہو سکتی۔ جنّت کو سڑک پہ اکیلا چھوڑ کر تُو حج کرنے چلا... ماں کے پاؤں تو چومے نہیں، اور کعبہ دیکھنے چلا! 💔📜 آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا گھر کی ذمہ داریوں اور ماں کی خدمت سے بڑھ کر بھی کوئی بڑی عبادت ہو سکتی ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ 👇