@np._97: : cục cưng của ảnh mò sao hong iuu 😝 #nhapthanhvan #fyp #viral #darley_team #kaphina_team

𝙥𝙝𝙬 𐙚 ˚
𝙥𝙝𝙬 𐙚 ˚
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 04 August 2026 05:25:27 GMT
8501
1396
20
121

Music

Download

Comments

kimngan8062
Kờ Nờ 𐙚 :
lụy quáaa à😭
2026-08-04 08:47:08
6
_3misyou
ThuyThi :
[Nhãn dán] mê cổ ed
2026-08-04 05:26:31
1
wiithyz
𝙏𝙝𝙮 :
ỏ đáng eooo
2026-08-04 10:12:00
1
_haimy.fangyi
芳 怡 𓆝 :
deth🙈
2026-08-04 08:33:12
1
hyz461
h yen. :
đang move on mà😭
2026-08-07 02:44:04
1
_vit0904
chưa tình đầu. :
Cx khớp á:)
2026-08-04 05:29:53
0
yne.nii__08
•𝗬𝗻𝗶𝗶 𓆝 :
mê coi ox text
2026-08-04 07:14:30
0
tho.quyn2607
𝓣𝓱𝓪𝓸 𝓠𝓾𝔂𝓮𝓷🍉 :
cưng quó dọ
2026-08-05 15:14:31
0
phanthuyvy2
cục cưng đẹp gái :
2026-08-09 11:06:19
0
dunt.02
dυndυn💓 :
xin font đoạn sud vs ạ
2026-08-21 13:08:53
0
dangtong30
Đặng Hằng🪼 :
2026-08-20 09:32:24
0
1805tu
Tú Harry 🦖 :
2026-08-31 04:41:52
0
cansuriengtu1
T. :
Hộ vài tim vs aaa chúc tuss ln xh
2026-08-22 08:44:13
0
kngoc.89
𝙣.ツ :
@niupe🐧❄ còn yeuu ko nà
2026-08-13 11:13:27
1
To see more videos from user @np._97, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

📚 SERIES KIẾN THỨC TRỌNG TÂM LỊCH SỬ DÀNH CHO 2K9 🔥 BÀI 2 LỊCH SỬ 12: TRẬT TỰ THẾ GIỚI HAI CỰC I-AN-TA ⏱️ ÔN THI DỄ DÀNG CHỈ TRONG 7 PHÚT! 🌍 🤔 Bạn có tin rằng chỉ trong 8 ngày, ba nhà lãnh đạo Xta-lin, Ru-dơ-ven và Sớc-sin đã đưa ra những quyết định đặt nền móng cho một trật tự thế giới tồn tại gần nửa thế kỉ? 🌐 Vì sao Trật tự thế giới hai cực I-an-ta, do Mỹ 🇺🇸 và Liên Xô ☭ đứng đầu, lại sụp đổ và từng bước nhường chỗ cho xu thế đa cực? 🎓 Video bài giảng được cô Trang Sử – Trung tâm Mitford Education biên soạn đặc biệt dành cho team 2K9 ôn thi tốt nghiệp THPT. 🗺️ Cùng hệ thống lại toàn bộ quá trình hình thành – tồn tại – sụp đổ của trật tự thế giới hai cực I-an-ta qua: 📍 Bản đồ trực quan ⏳ Dòng thời gian dễ nhớ 🧠 Kiến thức trọng tâm ⚡ Công thức ghi nhớ siêu tốc: 👉 I-an-ta → Hai cực → Chiến tranh lạnh → Hòa hoãn → Sụp đổ → Đa cực 🎯 Hãy xem đến cuối video để kiểm tra kiến thức bằng một câu hỏi trắc nghiệm nhé! 👇 Comment đáp án của bạn: A, B, C hay D? ❤️ Thả tim – lưu video – chia sẻ cho bạn bè để cùng nhau chinh phục môn Lịch sử! #LichSu12 #OnThiTHPT #OnThiTotNghiep #2K9 #CoTrangSu #MitfordEducation #TratTuHaiCuc #HoiNghiIanta #ChienTranhLanh #KienThucTrongTam
📚 SERIES KIẾN THỨC TRỌNG TÂM LỊCH SỬ DÀNH CHO 2K9 🔥 BÀI 2 LỊCH SỬ 12: TRẬT TỰ THẾ GIỚI HAI CỰC I-AN-TA ⏱️ ÔN THI DỄ DÀNG CHỈ TRONG 7 PHÚT! 🌍 🤔 Bạn có tin rằng chỉ trong 8 ngày, ba nhà lãnh đạo Xta-lin, Ru-dơ-ven và Sớc-sin đã đưa ra những quyết định đặt nền móng cho một trật tự thế giới tồn tại gần nửa thế kỉ? 🌐 Vì sao Trật tự thế giới hai cực I-an-ta, do Mỹ 🇺🇸 và Liên Xô ☭ đứng đầu, lại sụp đổ và từng bước nhường chỗ cho xu thế đa cực? 🎓 Video bài giảng được cô Trang Sử – Trung tâm Mitford Education biên soạn đặc biệt dành cho team 2K9 ôn thi tốt nghiệp THPT. 🗺️ Cùng hệ thống lại toàn bộ quá trình hình thành – tồn tại – sụp đổ của trật tự thế giới hai cực I-an-ta qua: 📍 Bản đồ trực quan ⏳ Dòng thời gian dễ nhớ 🧠 Kiến thức trọng tâm ⚡ Công thức ghi nhớ siêu tốc: 👉 I-an-ta → Hai cực → Chiến tranh lạnh → Hòa hoãn → Sụp đổ → Đa cực 🎯 Hãy xem đến cuối video để kiểm tra kiến thức bằng một câu hỏi trắc nghiệm nhé! 👇 Comment đáp án của bạn: A, B, C hay D? ❤️ Thả tim – lưu video – chia sẻ cho bạn bè để cùng nhau chinh phục môn Lịch sử! #LichSu12 #OnThiTHPT #OnThiTotNghiep #2K9 #CoTrangSu #MitfordEducation #TratTuHaiCuc #HoiNghiIanta #ChienTranhLanh #KienThucTrongTam
فرج میں صرف ایک انڈا، گھر میں پانچ لاشیں؛ کراچی کے احسن آباد کا وہ دل دہلا دینے والا سانحہ جو ہمارے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے! کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک چھوٹے سے گھر کا دروازہ کھلا تو اندر ایک ایسا منظر تھا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچیاں۔۔۔ ایک ہی گھر سے پانچ جنازے اٹھنے کی خبر نے ہر حساس دل کو سوگوار کر دیا۔ مگر اس سانحے کی سب سے تکلیف دہ تفصیل وہ تھی جو گھر کی تلاشی کے دوران سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا کہ گھر میں کھانے پینے کی اشیا نہ ہونے کے برابر تھیں۔ فرج کھولا گیا تو اس میں صرف ایک انڈا موجود تھا۔ ذرا تصور کیجیے! ایک گھر، تین کمسن بچیاں، بیمار باپ، بے بس ماں اور کھانے کے لیے صرف ایک انڈا! یہ محض ایک خاندان کی تباہی کی داستان نہیں، بلکہ ان حالات کی تصویر ہے جن میں ایک انسان بیماری، بے روزگاری اور معاشی تنگ دستی کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عمر جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔ ایک ماہ قبل ملازمت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ ایک طرف جان لیوا بیماری، دوسری طرف روزگار کا خاتمہ، علاج کے اخراجات اور تین چھوٹی بچیوں کی کفالت کی فکر۔ وہ شخص جو کبھی مریضوں کو زندگی کی امید دیتا تھا، خود زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ محلے داروں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ چند روز قبل ان کی اہلیہ نے گھر کا اوون فروخت کرنے کی کوشش کی۔ دس ہزار روپے مالیت کا اوون فروخت نہ ہو سکا تو ایک پڑوسی نے دو ہزار روپے دے کر خرید لیا۔ دو ہزار روپے! آج کے مہنگائی کے دور میں یہ رقم کتنے دن ایک بیمار باپ، ایک ماں اور تین بچیوں کا پیٹ پال سکتی تھی؟ اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب اس کی بچیاں کھانا مانگتی ہوں گی؟ وہ انہیں کیا کہتی ہوگی؟ کس امید پر دلاسہ دیتی ہوگی؟ اور ایک بیمار باپ کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو؟ یہاں سوال صرف غربت کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا بھی ہے۔ کہاں ہیں وہ سرکاری فلاحی ادارے جو مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ہیں؟ کہاں ہیں وہ امدادی نظام جو کسی بیمار، بے روزگار اور بے سہارا خاندان کو مکمل بے بسی تک پہنچنے سے پہلے سہارا دینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ اگر ایک بیمار ڈاکٹر اپنے گھر کے لیے راشن، علاج اور روزمرہ ضروریات کا انتظام نہیں کر سکتا، اگر ایک ماں کو اپنی بچیوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر کا سامان بیچنا پڑے، تو ہمیں اپنے سماجی اور فلاحی نظام کی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہم بڑے فخر سے حضرت عمر فاروقؓ کا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں آپؓ نے بھوکے بچوں کی حالت دیکھی تو خود ان کے لیے آٹا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے گئے۔ آپؓ کا یہ طرزِ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حکمرانی صرف اقتدار، عہدے اور اختیارات کا نام نہیں، بلکہ کمزور اور بے سہارا انسانوں کی ذمہ داری اٹھانے کا نام ہے۔ آج ہمیں اسی احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کوئی بیمار انسان علاج سے محروم نہ ہو، کوئی بچہ بھوک سے بے بس نہ ہو، اور کسی خاندان کو مدد کے لیے اپنی آخری متاع فروخت نہ کرنا پڑے۔ احسن آباد کا یہ سانحہ محض پانچ انسانوں کی موت کی خبر نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ کیا کسی معاشرے کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، سڑکوں، منصوبوں اور بڑے بڑے دعوؤں سے ناپی جا سکتی ہے، یا اس بات سے بھی کہ وہاں ایک غریب، بیمار اور بے سہارا خاندان کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں میسر ہیں یا نہیں؟ خدارا! اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ ممکن ہے آپ کے پڑوس میں کوئی ایسا خاندان موجود ہو جو خاموشی سے بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے لڑ رہا ہو۔ کسی کی مدد کیجیے، کسی کے گھر راشن پہنچائیے، کسی بیمار کے علاج میں حصہ ڈالیے، کسی مجبور کا ہاتھ تھامیے۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی کی زندگی بچانے کے لیے بہت بڑی رقم نہیں، صرف بروقت توجہ، تھوڑا سا احساس اور انسانیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تینوں معصوم بچیوں کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔#TrendingPakistan #ViralNews #foryoupage #SocialMediaViral #fyppppppppppppppppppppppp
فرج میں صرف ایک انڈا، گھر میں پانچ لاشیں؛ کراچی کے احسن آباد کا وہ دل دہلا دینے والا سانحہ جو ہمارے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے! کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک چھوٹے سے گھر کا دروازہ کھلا تو اندر ایک ایسا منظر تھا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچیاں۔۔۔ ایک ہی گھر سے پانچ جنازے اٹھنے کی خبر نے ہر حساس دل کو سوگوار کر دیا۔ مگر اس سانحے کی سب سے تکلیف دہ تفصیل وہ تھی جو گھر کی تلاشی کے دوران سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا کہ گھر میں کھانے پینے کی اشیا نہ ہونے کے برابر تھیں۔ فرج کھولا گیا تو اس میں صرف ایک انڈا موجود تھا۔ ذرا تصور کیجیے! ایک گھر، تین کمسن بچیاں، بیمار باپ، بے بس ماں اور کھانے کے لیے صرف ایک انڈا! یہ محض ایک خاندان کی تباہی کی داستان نہیں، بلکہ ان حالات کی تصویر ہے جن میں ایک انسان بیماری، بے روزگاری اور معاشی تنگ دستی کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عمر جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔ ایک ماہ قبل ملازمت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ ایک طرف جان لیوا بیماری، دوسری طرف روزگار کا خاتمہ، علاج کے اخراجات اور تین چھوٹی بچیوں کی کفالت کی فکر۔ وہ شخص جو کبھی مریضوں کو زندگی کی امید دیتا تھا، خود زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ محلے داروں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ چند روز قبل ان کی اہلیہ نے گھر کا اوون فروخت کرنے کی کوشش کی۔ دس ہزار روپے مالیت کا اوون فروخت نہ ہو سکا تو ایک پڑوسی نے دو ہزار روپے دے کر خرید لیا۔ دو ہزار روپے! آج کے مہنگائی کے دور میں یہ رقم کتنے دن ایک بیمار باپ، ایک ماں اور تین بچیوں کا پیٹ پال سکتی تھی؟ اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب اس کی بچیاں کھانا مانگتی ہوں گی؟ وہ انہیں کیا کہتی ہوگی؟ کس امید پر دلاسہ دیتی ہوگی؟ اور ایک بیمار باپ کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو؟ یہاں سوال صرف غربت کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا بھی ہے۔ کہاں ہیں وہ سرکاری فلاحی ادارے جو مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ہیں؟ کہاں ہیں وہ امدادی نظام جو کسی بیمار، بے روزگار اور بے سہارا خاندان کو مکمل بے بسی تک پہنچنے سے پہلے سہارا دینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ اگر ایک بیمار ڈاکٹر اپنے گھر کے لیے راشن، علاج اور روزمرہ ضروریات کا انتظام نہیں کر سکتا، اگر ایک ماں کو اپنی بچیوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر کا سامان بیچنا پڑے، تو ہمیں اپنے سماجی اور فلاحی نظام کی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہم بڑے فخر سے حضرت عمر فاروقؓ کا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں آپؓ نے بھوکے بچوں کی حالت دیکھی تو خود ان کے لیے آٹا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے گئے۔ آپؓ کا یہ طرزِ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حکمرانی صرف اقتدار، عہدے اور اختیارات کا نام نہیں، بلکہ کمزور اور بے سہارا انسانوں کی ذمہ داری اٹھانے کا نام ہے۔ آج ہمیں اسی احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کوئی بیمار انسان علاج سے محروم نہ ہو، کوئی بچہ بھوک سے بے بس نہ ہو، اور کسی خاندان کو مدد کے لیے اپنی آخری متاع فروخت نہ کرنا پڑے۔ احسن آباد کا یہ سانحہ محض پانچ انسانوں کی موت کی خبر نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ کیا کسی معاشرے کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، سڑکوں، منصوبوں اور بڑے بڑے دعوؤں سے ناپی جا سکتی ہے، یا اس بات سے بھی کہ وہاں ایک غریب، بیمار اور بے سہارا خاندان کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں میسر ہیں یا نہیں؟ خدارا! اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ ممکن ہے آپ کے پڑوس میں کوئی ایسا خاندان موجود ہو جو خاموشی سے بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے لڑ رہا ہو۔ کسی کی مدد کیجیے، کسی کے گھر راشن پہنچائیے، کسی بیمار کے علاج میں حصہ ڈالیے، کسی مجبور کا ہاتھ تھامیے۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی کی زندگی بچانے کے لیے بہت بڑی رقم نہیں، صرف بروقت توجہ، تھوڑا سا احساس اور انسانیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تینوں معصوم بچیوں کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔#TrendingPakistan #ViralNews #foryoupage #SocialMediaViral #fyppppppppppppppppppppppp

About