@chilong.chusa: Tham gia buổi LIVE của chúng tôi để nhận nhiều khuyến mãi độc quyền!

DEAR CHU SA
DEAR CHU SA
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 04 August 2026 12:03:52 GMT
637
1
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @chilong.chusa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شنگلہ کے ہونہار نوجوان ابو سفیان کا میٹرک رزلٹ آ گیا، مگر وہ خود یہ خوشی دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود نہیں۔ ابو سفیان، جن کا تعلق ضلع شنگلہ سے تھا، نے میٹرک کے امتحان میں 865 نمبر حاصل کیے۔ یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور بہتر مستقبل کے خواب کی عکاس تھی، مگر افسوس کہ وہ اپنا نتیجہ دیکھنے سے پہلے ہی کوئلے کی کان میں پیش آنے والے حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ گھر کے معاشی حالات انتہائی کمزور تھے۔ اسی مجبوری کے باعث میٹرک کے امتحانات ختم ہونے اور اسکول کی چھٹیوں کے دوران وہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے گلشنِ کوئٹہ میں روزگار کی تلاش میں گئے۔ وہاں وہ زمین سے تقریباً 300 فٹ نیچے کوئلے کی کان میں مزدوری کر رہے تھے تاکہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں اور گھر کے حالات بہتر ہو سکیں۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جو نوجوان اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے گیا تھا، وہ واپس زندہ نہ لوٹ سکا بلکہ اس کا جسدِ خاکی تابوت میں اپنے گاؤں پہنچا۔ آج ابو سفیان کا رزلٹ آیا ہے، مگر وہ خود اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے ہمارے درمیان موجود نہیں۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں غریب طلبہ کی تلخ حقیقت ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ابو سفیان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
شنگلہ کے ہونہار نوجوان ابو سفیان کا میٹرک رزلٹ آ گیا، مگر وہ خود یہ خوشی دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود نہیں۔ ابو سفیان، جن کا تعلق ضلع شنگلہ سے تھا، نے میٹرک کے امتحان میں 865 نمبر حاصل کیے۔ یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور بہتر مستقبل کے خواب کی عکاس تھی، مگر افسوس کہ وہ اپنا نتیجہ دیکھنے سے پہلے ہی کوئلے کی کان میں پیش آنے والے حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ گھر کے معاشی حالات انتہائی کمزور تھے۔ اسی مجبوری کے باعث میٹرک کے امتحانات ختم ہونے اور اسکول کی چھٹیوں کے دوران وہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے گلشنِ کوئٹہ میں روزگار کی تلاش میں گئے۔ وہاں وہ زمین سے تقریباً 300 فٹ نیچے کوئلے کی کان میں مزدوری کر رہے تھے تاکہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں اور گھر کے حالات بہتر ہو سکیں۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جو نوجوان اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے گیا تھا، وہ واپس زندہ نہ لوٹ سکا بلکہ اس کا جسدِ خاکی تابوت میں اپنے گاؤں پہنچا۔ آج ابو سفیان کا رزلٹ آیا ہے، مگر وہ خود اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے ہمارے درمیان موجود نہیں۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں غریب طلبہ کی تلخ حقیقت ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ابو سفیان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

About