@rpkprincess: hit em and do it again

rpk
rpk
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 04 August 2026 14:18:40 GMT
1170
21
2
1

Music

Download

Comments

thewizz4shizz
Wizzard :
larger lenses would fit ya better, but ya still slay
2026-08-04 16:35:53
0
To see more videos from user @rpkprincess, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے پھر مارا ہے۔ یہ لفظ ’’پھر‘‘ باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے دن بدن کم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی بازو پر نیلا نشان، کبھی آنکھ کے نیچے سوجن، کبھی ہونٹ پر زخم... ماں ہر بار بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی: ’’بیٹا، نئی نئی شادی ہے... وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، تم خاموش رہا کرو، گھر بس جائے گا۔‘‘ بیٹی ہر بار آنسو پونچھ کر بس اتنا کہتی: ’’امی... میں کوشش کرتی ہوں۔‘‘ اور باپ؟ وہ خاموش رہتا۔ وہ سوچتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے باپ کو بھی کچھ درد اپنے سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اس رات جب دوبارہ فون آیا اور دوسری طرف سے صرف اتنا کہا گیا: ’’آپ کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں... اسے پھر مارا ہے۔‘‘ تو باپ نے فون بند کر دیا۔ کچھ دیر تک وہ اندھیرے میں خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس نے اپنی بیٹی کی بچپن کی ایک تصویر اٹھائی۔ تصویر میں وہ ننھی سی بچی اس کی انگلی پکڑے مسکرا رہی تھی۔ باپ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا: ’’میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے... اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔‘‘ رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں سب سو رہے تھے۔ باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ بس اپنا چادر کندھے پر رکھا اور باہر نکل گیا۔ راستے میں اس نے ایک بینڈ والے کو جگایا۔ بینڈ والے نے حیرت سے پوچھا: ’’چوہدری صاحب، اس وقت؟ کوئی شادی ہے؟‘‘ باپ نے بس اتنا کہا: ’’ہاں... مگر آج میں اپنی بیٹی کی زندگی کی شادی بچانے جا رہا ہوں۔‘‘ وہ بینڈ والوں کو ساتھ لے کر سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔ رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔ ’’سمدھی جی؟ اتنی رات گئے؟ خیریت تو ہے؟‘‘ باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی لمحے اوپر کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے ایک سہمی ہوئی آنکھ نظر آئی۔ وہ اس کی بیٹی تھی۔ باپ نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ بیٹی نے باپ کو دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بیٹی کے چہرے پر زخم تھا... مگر باپ کو اس زخم سے زیادہ اپنی بیٹی کی خاموشی نے توڑ دیا۔ اس نے دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہا: ’’چل... گھر چلیں۔‘‘ بیٹی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔ شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آج واقعی کوئی اسے لینے آیا ہے۔ پھر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ نیچے آ گئی۔ داماد نے غصے سے کہا: ’’یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے!‘‘ باپ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا اور کہا: ’’بیوی ہے، تمہاری ملکیت نہیں۔‘‘ پھر وہ بینڈ والوں کی طرف مڑا اور ہاتھ اٹھا کر بولا: ’’بجاؤ!‘‘ رات کی خاموشی اچانک بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی۔ گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے۔ سب حیران تھے کہ آدھی رات کو بینڈ کیوں بج رہا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کے پاس گیا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا: ’’آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔ ’’میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘ بیٹی باپ کے سینے سے لگ گئی۔ برسوں کا ضبط آنسو بن کر بہہ نکلا۔ وہ روتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکی: ’’ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟‘‘ یہ سن کر باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔‘‘ اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل پڑا۔ بینڈ بجتا رہا۔ مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی۔ اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں... ظلم سے واپس لے جا رہا تھا۔ اور شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی... کیونکہ اس رخصتی میں دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی، مگر اس کے دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔ کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا... وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے
باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے پھر مارا ہے۔ یہ لفظ ’’پھر‘‘ باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے دن بدن کم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی بازو پر نیلا نشان، کبھی آنکھ کے نیچے سوجن، کبھی ہونٹ پر زخم... ماں ہر بار بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی: ’’بیٹا، نئی نئی شادی ہے... وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، تم خاموش رہا کرو، گھر بس جائے گا۔‘‘ بیٹی ہر بار آنسو پونچھ کر بس اتنا کہتی: ’’امی... میں کوشش کرتی ہوں۔‘‘ اور باپ؟ وہ خاموش رہتا۔ وہ سوچتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے باپ کو بھی کچھ درد اپنے سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اس رات جب دوبارہ فون آیا اور دوسری طرف سے صرف اتنا کہا گیا: ’’آپ کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں... اسے پھر مارا ہے۔‘‘ تو باپ نے فون بند کر دیا۔ کچھ دیر تک وہ اندھیرے میں خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس نے اپنی بیٹی کی بچپن کی ایک تصویر اٹھائی۔ تصویر میں وہ ننھی سی بچی اس کی انگلی پکڑے مسکرا رہی تھی۔ باپ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا: ’’میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے... اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔‘‘ رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں سب سو رہے تھے۔ باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ بس اپنا چادر کندھے پر رکھا اور باہر نکل گیا۔ راستے میں اس نے ایک بینڈ والے کو جگایا۔ بینڈ والے نے حیرت سے پوچھا: ’’چوہدری صاحب، اس وقت؟ کوئی شادی ہے؟‘‘ باپ نے بس اتنا کہا: ’’ہاں... مگر آج میں اپنی بیٹی کی زندگی کی شادی بچانے جا رہا ہوں۔‘‘ وہ بینڈ والوں کو ساتھ لے کر سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔ رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔ ’’سمدھی جی؟ اتنی رات گئے؟ خیریت تو ہے؟‘‘ باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی لمحے اوپر کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے ایک سہمی ہوئی آنکھ نظر آئی۔ وہ اس کی بیٹی تھی۔ باپ نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ بیٹی نے باپ کو دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بیٹی کے چہرے پر زخم تھا... مگر باپ کو اس زخم سے زیادہ اپنی بیٹی کی خاموشی نے توڑ دیا۔ اس نے دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہا: ’’چل... گھر چلیں۔‘‘ بیٹی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔ شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آج واقعی کوئی اسے لینے آیا ہے۔ پھر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ نیچے آ گئی۔ داماد نے غصے سے کہا: ’’یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے!‘‘ باپ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا اور کہا: ’’بیوی ہے، تمہاری ملکیت نہیں۔‘‘ پھر وہ بینڈ والوں کی طرف مڑا اور ہاتھ اٹھا کر بولا: ’’بجاؤ!‘‘ رات کی خاموشی اچانک بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی۔ گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے۔ سب حیران تھے کہ آدھی رات کو بینڈ کیوں بج رہا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کے پاس گیا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا: ’’آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔ ’’میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘ بیٹی باپ کے سینے سے لگ گئی۔ برسوں کا ضبط آنسو بن کر بہہ نکلا۔ وہ روتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکی: ’’ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟‘‘ یہ سن کر باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔‘‘ اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل پڑا۔ بینڈ بجتا رہا۔ مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی۔ اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں... ظلم سے واپس لے جا رہا تھا۔ اور شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی... کیونکہ اس رخصتی میں دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی، مگر اس کے دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔ کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا... وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے

About