@maliworatv: #maliworatv #senegalaise_tik_tok🇸🇳 #coupedumonde2026👊🏿 #guineetiktok🇬🇳❤️ #ousmanesonko2024🇸🇳

Maliwora tv
Maliwora tv
Open In TikTok:
Region: SN
Tuesday 04 August 2026 22:02:50 GMT
15011
967
86
47

Music

Download

Comments

dash14388
Dash :
16million Fran Guine Latium 50mill Fran cf oooooh
2026-08-05 00:06:38
0
user33287550496501
loua :
khana gouvernement guinéen khamouniouko puisque niata ate gnigui top cellou dallein Diallo pour mou delossi khalissou air guinée bimou loubeul
2026-08-04 22:27:22
2
user43578886034840
kaw Cissé :
vive tahirou sarr
2026-08-04 22:38:07
4
user44278198775593
Fall yaram :
sa way lolou dou takh niou doumalen lolou. takhoul niou ragar len
2026-08-05 00:29:31
2
sadio.diallo029
sadio Diallo :
vive la Guinée notre paradis
2026-08-05 00:18:27
0
apple.user53555206
Apple User535552 :
Tahirou Sarr
2026-08-05 01:11:16
0
senethialysene
sene thialy :
🤣🤣🤣man mii sathie nan sama téléphone bii maye bindé té gniko sathione gnoko indiwat Bilahi wAllah
2026-08-05 00:54:45
1
cheikh.ciss367
Cheikh Ciss :
Bonjour
2026-08-05 02:46:08
0
abdoulaye.boye164
عبدالله بوي صلاح الدین :
li por man dillae 😳
2026-08-05 03:01:08
0
diedhiou779079453
Mansour Diedhiou :
vraiment il est le meilleur
2026-08-05 01:55:32
0
mamadou.cherif.b
Mamadou cherif Bâ :
2026-08-04 22:06:53
1
baye423
baye :
mais nioune Sénégalais lane moyi souniou si lolou
2026-08-05 01:42:39
0
salimata.diawara90
Salimata Diawara :
😂😂😂😂😂😂
2026-08-05 01:32:21
0
ramandiaye4480
ramandiaye4480 :
Machallah
2026-08-05 02:04:18
0
user4619416821750
user4619416821750 bah dt :
sérieux
2026-08-04 22:12:00
0
djibrilmbodj24
Boubacar Yasir diallo 🇬🇳🇸🇦 :
ce fort
2026-08-05 00:55:19
0
aliousi4
user36529200958691 :
mashallah
2026-08-05 01:01:18
0
laminesene936
Lamine Sene :
lolou am pa bouko done déf kaolack
2026-08-05 01:06:59
0
dou1442
dou :
fne 😂😂
2026-08-05 03:36:58
0
cheikh.ahmadou.di33
Cheikh Ahmadou Diouf :
je suis intéressé ton numéro
2026-08-05 01:23:07
0
zaleboy_8
Zale♻️ :
Ce le roi 👑
2026-08-04 22:12:25
0
To see more videos from user @maliworatv, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لازوال محبت کی داستان**  یہ خوشبو، وفاداری اور بے پناہ عشق کی تھی جو حمزہ کے وجود سے نکل کر فضا میں حل ہو رہی تھی۔ حمزہ اور حریم کی کہانی کوئی عام محبت کی کہانی نہیں تھی۔ یہ کہانی دو ایسے انسانوں کی تھی جنہوں نے ایک دوسرے کو پانے کے لیے زمانے کا ہر ستم جھیلا تھا، جنہوں نے جدائی کی تلخ راتوں میں تنہائی کا زہر پیا تھا اور جنہوں نے اپنے جذبوں کو کبھی میلا نہیں ہونے دیا تھا۔ برسوں پہلے، جب ان کی دنیا ایک دم اجڑ گئی تھی اور زمانے کی بدگمانیوں نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا تھا، تو حمزہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک وعدہ کیا تھا— ایک ایسا وعدہ جو کسی عام انسان کے بس کا نہیں تھا۔ وہ حریم کے بغیر زندہ تو رہا، مگر اس کی زندگی کا ہر لمحہ حریم کی یاد اور اس کی عزت و حرمت کی پاسداری میں گزرا۔ حمزہ کے لیے حریم صرف ایک محبوبہ نہیں تھی، وہ اس کی روح کا سکون، اس کا احترام اور اس کی کائنات تھی۔ برسوں کے طویل صبر اور کٹھن آزمائشوں کے بعد، جب رب نے ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ان کے بچھڑے ہوئے راستے دوبارہ ایک جگہ آ ملے، تو وہ لمحہ محض دو انسانوں کے ملن کا نہیں تھا، بلکہ دو تڑپتی ہوئی روحوں کے چین پانے کا لمحہ تھا۔ حریم سامنے بیٹھک میں صوفے پر بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر تھکن اور برسوں کے سفر کی دھول کے آثار تھے۔ وہ خاموش تھی، اس کی آنکھوں میں بچھڑنے اور ملنے کا سارا درد آانسو بن کر جم چکا تھا۔ حمزہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی غرور تھا، نہ ہی فتح کا کوئی دعویٰ… اگر کچھ تھا تو بس بے پناہ عقیدت اور نیازمندی۔ وہ بغیر کچھ کہے حریم کے سامنے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ حمزہ نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو آگے بڑھایا اور حریم کے پاؤں پر لگی معمولی سی مٹی کی طرف دیکھا۔ وہ مٹی جو سفر کی گرد تھی، حمزہ کے لیے کائنات کے سب سے قیمتی گوہر سے بھی زیادہ مقدس تھی۔ اس نے بہت احترام اور آہستگی کے ساتھ حریم کے نازک پاؤں کو اپنے ہاتھوں میں لیا، جیسے کوئی شیشے کی نایاب اور نازک ترین شے کو چھوتا ہے۔ حریم کا وجود ایک لمحے کے لیے کانپ اٹھا، اس نے چاہا کہ اپنے پاؤں پیچھے کر لے، مگر حمزہ کی آنکھوں میں جھلکتی ہوئی دیوانگی اور عقیدت نے اسے ساکت کر دیا۔ حمزہ نے اپنے بوجھل اور کانپتے ہوئے ہونٹ حریم کے پاؤں پر لگی اس مٹی کے قریب کیے اور دل کے تمام تر جذبوں کو اپنی آواز میں انڈیلتے ہوئے بولا: > ** آپ کے اس غلام کو اس مٹی سے بھی عشق ہے!"** > یہ صرف چند الفاظ نہیں تھے، یہ حمزہ کے وجود کا اعتراف تھا! اس کی آنکھوں سے نکلنے والا گرم آنسو حریم کے پاؤں کو چھو گیا، اور اس ایک آنسو نے برسوں سے جمی برف کو پگھلا دیا۔ حریم اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ اس کے سینے سے ایک سسکی نکلی اور وہ اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی۔ وہ آنسو جو برسوں سے اس کے دل میں جمے ہوئے تھے، جو راتوں کو اکیلے میں بہتے تھے، آج وہ تمام آنسو حمزہ کی اس بے لوث عقیدت کے سامنے بہہ نکلے۔ حریم نے جھک کر حمزہ کے شانے کو تھاما اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا: *"حمزہ! تم نے مجھے کس مقام پر بٹھا دیا ہے؟ میں تو بس ایک عام سی لڑکی ہوں…"* حمزہ نے اپنا سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں سرخی اور گہرا پیار تھا، اس نے حریم کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا اور نرمی سے بولا: *"تم میرے لیے عام نہیں ہو حریم… تم میری روح کا وہ حصہ ہو جس کے بغیر میں ادھورا تھا۔ دنیا فتح کرنے والے تاجدار ہوں گے، لیکن میں تمہارے آستانے کا وہ غلام ہوں جس کی بندگی ہی اس کی معراج ہے!"* اس شام، ڈوبتے سورج اور خاموش فضاؤں نے اس بات کی گواہی دی کہ جب محبت میں احترام، پاکیزگی اور بندگی کا جذبہ شامل ہو جائے، تو وہ صرف ایک رشتہ نہیں رہتی… وہ ایک لازوال عبادت بن جاتی ہے جس کے سامنے وقت اور فاصلے ہمیشہ کے لیے ہار جاتے ہیں۔ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸 " width="135" height="240">
لازوال محبت کی داستان** یہ خوشبو، وفاداری اور بے پناہ عشق کی تھی جو حمزہ کے وجود سے نکل کر فضا میں حل ہو رہی تھی۔ حمزہ اور حریم کی کہانی کوئی عام محبت کی کہانی نہیں تھی۔ یہ کہانی دو ایسے انسانوں کی تھی جنہوں نے ایک دوسرے کو پانے کے لیے زمانے کا ہر ستم جھیلا تھا، جنہوں نے جدائی کی تلخ راتوں میں تنہائی کا زہر پیا تھا اور جنہوں نے اپنے جذبوں کو کبھی میلا نہیں ہونے دیا تھا۔ برسوں پہلے، جب ان کی دنیا ایک دم اجڑ گئی تھی اور زمانے کی بدگمانیوں نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا تھا، تو حمزہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک وعدہ کیا تھا— ایک ایسا وعدہ جو کسی عام انسان کے بس کا نہیں تھا۔ وہ حریم کے بغیر زندہ تو رہا، مگر اس کی زندگی کا ہر لمحہ حریم کی یاد اور اس کی عزت و حرمت کی پاسداری میں گزرا۔ حمزہ کے لیے حریم صرف ایک محبوبہ نہیں تھی، وہ اس کی روح کا سکون، اس کا احترام اور اس کی کائنات تھی۔ برسوں کے طویل صبر اور کٹھن آزمائشوں کے بعد، جب رب نے ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ان کے بچھڑے ہوئے راستے دوبارہ ایک جگہ آ ملے، تو وہ لمحہ محض دو انسانوں کے ملن کا نہیں تھا، بلکہ دو تڑپتی ہوئی روحوں کے چین پانے کا لمحہ تھا۔ حریم سامنے بیٹھک میں صوفے پر بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر تھکن اور برسوں کے سفر کی دھول کے آثار تھے۔ وہ خاموش تھی، اس کی آنکھوں میں بچھڑنے اور ملنے کا سارا درد آانسو بن کر جم چکا تھا۔ حمزہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی غرور تھا، نہ ہی فتح کا کوئی دعویٰ… اگر کچھ تھا تو بس بے پناہ عقیدت اور نیازمندی۔ وہ بغیر کچھ کہے حریم کے سامنے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ حمزہ نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو آگے بڑھایا اور حریم کے پاؤں پر لگی معمولی سی مٹی کی طرف دیکھا۔ وہ مٹی جو سفر کی گرد تھی، حمزہ کے لیے کائنات کے سب سے قیمتی گوہر سے بھی زیادہ مقدس تھی۔ اس نے بہت احترام اور آہستگی کے ساتھ حریم کے نازک پاؤں کو اپنے ہاتھوں میں لیا، جیسے کوئی شیشے کی نایاب اور نازک ترین شے کو چھوتا ہے۔ حریم کا وجود ایک لمحے کے لیے کانپ اٹھا، اس نے چاہا کہ اپنے پاؤں پیچھے کر لے، مگر حمزہ کی آنکھوں میں جھلکتی ہوئی دیوانگی اور عقیدت نے اسے ساکت کر دیا۔ حمزہ نے اپنے بوجھل اور کانپتے ہوئے ہونٹ حریم کے پاؤں پر لگی اس مٹی کے قریب کیے اور دل کے تمام تر جذبوں کو اپنی آواز میں انڈیلتے ہوئے بولا: > **"آپ کے پاؤں پر لگی مٹی کی قسم… > آپ کے اس غلام کو اس مٹی سے بھی عشق ہے!"** > یہ صرف چند الفاظ نہیں تھے، یہ حمزہ کے وجود کا اعتراف تھا! اس کی آنکھوں سے نکلنے والا گرم آنسو حریم کے پاؤں کو چھو گیا، اور اس ایک آنسو نے برسوں سے جمی برف کو پگھلا دیا۔ حریم اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ اس کے سینے سے ایک سسکی نکلی اور وہ اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی۔ وہ آنسو جو برسوں سے اس کے دل میں جمے ہوئے تھے، جو راتوں کو اکیلے میں بہتے تھے، آج وہ تمام آنسو حمزہ کی اس بے لوث عقیدت کے سامنے بہہ نکلے۔ حریم نے جھک کر حمزہ کے شانے کو تھاما اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا: *"حمزہ! تم نے مجھے کس مقام پر بٹھا دیا ہے؟ میں تو بس ایک عام سی لڑکی ہوں…"* حمزہ نے اپنا سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں سرخی اور گہرا پیار تھا، اس نے حریم کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا اور نرمی سے بولا: *"تم میرے لیے عام نہیں ہو حریم… تم میری روح کا وہ حصہ ہو جس کے بغیر میں ادھورا تھا۔ دنیا فتح کرنے والے تاجدار ہوں گے، لیکن میں تمہارے آستانے کا وہ غلام ہوں جس کی بندگی ہی اس کی معراج ہے!"* اس شام، ڈوبتے سورج اور خاموش فضاؤں نے اس بات کی گواہی دی کہ جب محبت میں احترام، پاکیزگی اور بندگی کا جذبہ شامل ہو جائے، تو وہ صرف ایک رشتہ نہیں رہتی… وہ ایک لازوال عبادت بن جاتی ہے جس کے سامنے وقت اور فاصلے ہمیشہ کے لیے ہار جاتے ہیں۔ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸

About