@islamicpost20262: فرعون کی بادشاہی سے مراد قدیم مصر کے وہ حکمران ہیں جنہیں فرعون کہا جاتا تھا۔ یہ حکمران خود کو خدائی اختیار کا حامل سمجھتے تھے۔ اہم معلومات: * **دور حکومت:** تقریباً 3100 قبل مسیح سے 30 قبل مسیح تک مختلف ادوار میں قائم رہی۔ * **سلطنت:** دریائے نیل کے کنارے آباد تھی، جہاں زراعت، تجارت اور تعمیرات بہت ترقی یافتہ تھیں۔ * **یادگاریں:** اہرامِ مصر اور عظیم مجسمے (Sphinx) فرعونوں کے دور کی مشہور یادگاریں ہیں۔ قرآن مجید میں جس فرعون کا ذکر آیا ہے، وہ ایک ظالم بادشاہ تھا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی اور بنی اسرائیل پر ظلم کیا۔ اس نے خود کو "سب سے بڑا رب" کہنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور ظلم کی وجہ سے اسے سمندر میں غرق کر دیا، جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو نجات ملی۔ اگر آپ قرآن کے مطابق فرعون کی مکمل تاریخ یا حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا پورا واقعہ تفصیل سے جاننا چاہیں تو بتا سکتے ہیں۔ #فرعون #قدیم_مصر #تاریخ_اسلام #قرآن #حضرت_موسیٰ