@user4828519779810: 終於開始畫人了,牢博你怎麼這麼難畫啊~糊弄大法belike:依舊迷上煤球雞,不得不說復樂園這麼小眾嗎?我一直以為挺大眾的說 #復樂園 #手書 #原神#多托雷#博士

明月婭婭
明月婭婭
Open In TikTok:
Region: TW
Wednesday 05 August 2026 03:33:59 GMT
194
9
2
0

Music

Download

Comments

user520_0101
玫瑰🥀💀 :
官方過了??
2026-08-05 13:35:13
0
To see more videos from user @user4828519779810, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غزل مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے بانگِ درا تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے معانی: تقلید: پیروی، کسی کے پیچھے چلنا ۔ روش: طریقہ ۔ خود کشی: اپنے ہاتھوں خود کو مار لینا ۔ خضر: رہنا ۔ سودا: خیال ۔ مطلب: اس شعر میں کہا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی تقلید اور پیروی سے تو بہتر یہی ہے کہ انسان خود کشی کر لے ۔ ضرورت اس امر کی ہے منزل تک پہنچنے کے لیے اپنا راستہ بھی تلاش کیے جائے اور وہاں تک رہنمائی کے لیے حضرت خضر کی امداد کا تصور بھی ترک کر دیا جائے کہ اسی صورت میں انسان اپنی ذاتی جدوجہد کے ذریعے منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ سوداگری نہیں ، یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے معانی: سوداگری: کاروبار ۔ جزا: ثواب ۔ مطلب: رب ذوالجلال کی عبادت تو صمیم قلب سے کی جانی چاہیے ۔ اس عمل کے لیے محض جزا کو پیش نظر رکھنا خلوص دل سے عبادت کے منافی ہے ۔ بلکہ بالفاظ دگر یہ تو ایک طرح سے سوداگری کے مترادف ہے ۔ یوں بھی عبادت سوداگری نہیں ہوتی ۔ اگر دل میں خلوص ہو تو پھر جزا اور انعام کا تصور بے معنی شے بن جاتا ہے ۔ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے معانی: پاسبان: چوکیدار، حفاظت کرنے والا ۔ مطلب: یہ امر بڑی حد تک مناسب ہے کہ مسئلہ کوئی بھی ہو اس کو بروئے کار لانے کے عمل میں دل اور عقل کے مابین رابطہ برقرار رہے اس کے باوجود کبھی کبھی یہ بھی مناسب ہوتا ہے کہ عقل کے بجائے محض اس جذبے کے تحت کام کیا جائے جس کا تعلق محض دل سے ہو ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry
غزل مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے بانگِ درا تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے معانی: تقلید: پیروی، کسی کے پیچھے چلنا ۔ روش: طریقہ ۔ خود کشی: اپنے ہاتھوں خود کو مار لینا ۔ خضر: رہنا ۔ سودا: خیال ۔ مطلب: اس شعر میں کہا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی تقلید اور پیروی سے تو بہتر یہی ہے کہ انسان خود کشی کر لے ۔ ضرورت اس امر کی ہے منزل تک پہنچنے کے لیے اپنا راستہ بھی تلاش کیے جائے اور وہاں تک رہنمائی کے لیے حضرت خضر کی امداد کا تصور بھی ترک کر دیا جائے کہ اسی صورت میں انسان اپنی ذاتی جدوجہد کے ذریعے منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ سوداگری نہیں ، یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے معانی: سوداگری: کاروبار ۔ جزا: ثواب ۔ مطلب: رب ذوالجلال کی عبادت تو صمیم قلب سے کی جانی چاہیے ۔ اس عمل کے لیے محض جزا کو پیش نظر رکھنا خلوص دل سے عبادت کے منافی ہے ۔ بلکہ بالفاظ دگر یہ تو ایک طرح سے سوداگری کے مترادف ہے ۔ یوں بھی عبادت سوداگری نہیں ہوتی ۔ اگر دل میں خلوص ہو تو پھر جزا اور انعام کا تصور بے معنی شے بن جاتا ہے ۔ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے معانی: پاسبان: چوکیدار، حفاظت کرنے والا ۔ مطلب: یہ امر بڑی حد تک مناسب ہے کہ مسئلہ کوئی بھی ہو اس کو بروئے کار لانے کے عمل میں دل اور عقل کے مابین رابطہ برقرار رہے اس کے باوجود کبھی کبھی یہ بھی مناسب ہوتا ہے کہ عقل کے بجائے محض اس جذبے کے تحت کام کیا جائے جس کا تعلق محض دل سے ہو ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry

About