@bolatoovv_11:

danshomyn 🙋🏻‍♂️
danshomyn 🙋🏻‍♂️
Open In TikTok:
Region: KZ
Wednesday 05 August 2026 14:11:01 GMT
24771
1728
7
206

Music

Download

Comments

eriik.bahit
ERiik BAHIT :
Керемет тамаша
2026-08-05 21:14:43
0
nazumhan3
🇰🇿 Журегым бос Емес 🐺 :
Шындык Дурыс айтылган
2026-08-05 15:42:18
0
.19939797
Камила.Айтпергенова1993 :
🥺
2026-08-05 16:04:45
0
user3944611605166
Бегенч :
🥰🥰🥰
2026-08-05 18:30:22
0
To see more videos from user @bolatoovv_11, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

السلام علیکم۔ سب سے پہلے میں اپنے تمام بلوچ بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور ماؤں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتی ہوں۔ امید کرتی ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج میں ایک مختصر مگر نہایت اہم بات کرنا چاہتی ہوں۔ گزشتہ روز میری نظر مولوی شہاب کی ایک ویڈیو پر پڑی، جس میں انہوں نے کہا کہ بلوچ ایک جنگ میں ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ مولوی صاحب! میرا آپ سے چند سوالات ہیں، اور مجھے امید ہے کہ آپ ان کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دیں گے۔ آپ اکثر اسلام کی بات کرتے ہیں۔ تو کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ قرآنِ مجید کی کس آیت یا رسول اللہ ﷺ کی کس صحیح حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خواتین اپنے گھروں سے نکل کر پہاڑوں میں غیر محرم مردوں کے ساتھ رہیں اور مسلح جدوجہد کا حصہ بنیں؟ اسی طرح یہ بھی بتائیے کہ اسلام میں کہاں یہ اجازت دی گئی ہے کہ خواتین اپنے جسم پر بارود باندھیں، خودکش حملوں میں استعمال ہوں یا اپنی جان لے کر دوسروں کی جانیں بھی خطرے میں ڈالیں؟ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا ہے۔ اسے زندگی دینے والا کردار دیا ہے، نہ کہ موت اور تباہی کی علامت بننے کا۔ اگر ہم اپنی بلوچ روایات کی بات کریں تو ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور ہمارے قبائلی اقدار بھی ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ عورت ہماری عزت اور غیرت کی علامت ہے۔ ہماری روایات میں کہیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ خواتین کو جنگ کا ایندھن بنایا جائے، انہیں تشدد کی راہ پر دھکیلا جائے یا انہیں ایسے راستوں پر چلنے پر آمادہ کیا جائے جن کا انجام صرف تباہی ہو۔ افسوس اس بات کا ہے کہ معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی باتوں کو ہزاروں لوگ سنتے اور مانتے ہیں۔ ایسے بااثر افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو تعلیم، شعور، امن اور تعمیر کی طرف بلائیں، نہ کہ تشدد اور خونریزی کی طرف۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ دوسروں کے بچوں کو لڑنے اور مرنے کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے، مگر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ محفوظ اور روشن مستقبل کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس پر ہر نوجوان اور ہر والدین کو غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اپنے نظریے کے لیے جدوجہد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، لیکن ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ عورتوں کو جنگ کا حصہ بنانا، انہیں تشدد کی علامت بنانا اور ان کے جذبات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ اسلام کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی بلوچ روایات سے۔ آئیے، ہم اپنی نسلوں کو نفرت نہیں بلکہ علم دیں، تشدد نہیں بلکہ شعور دیں، اور جنگ نہیں بلکہ امن، ترقی اور ایک بہتر مستقبل کا راستہ دکھائیں۔ #بلوچستان، #پاکستان #trending #fypシ
السلام علیکم۔ سب سے پہلے میں اپنے تمام بلوچ بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور ماؤں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتی ہوں۔ امید کرتی ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج میں ایک مختصر مگر نہایت اہم بات کرنا چاہتی ہوں۔ گزشتہ روز میری نظر مولوی شہاب کی ایک ویڈیو پر پڑی، جس میں انہوں نے کہا کہ بلوچ ایک جنگ میں ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ مولوی صاحب! میرا آپ سے چند سوالات ہیں، اور مجھے امید ہے کہ آپ ان کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دیں گے۔ آپ اکثر اسلام کی بات کرتے ہیں۔ تو کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ قرآنِ مجید کی کس آیت یا رسول اللہ ﷺ کی کس صحیح حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خواتین اپنے گھروں سے نکل کر پہاڑوں میں غیر محرم مردوں کے ساتھ رہیں اور مسلح جدوجہد کا حصہ بنیں؟ اسی طرح یہ بھی بتائیے کہ اسلام میں کہاں یہ اجازت دی گئی ہے کہ خواتین اپنے جسم پر بارود باندھیں، خودکش حملوں میں استعمال ہوں یا اپنی جان لے کر دوسروں کی جانیں بھی خطرے میں ڈالیں؟ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا ہے۔ اسے زندگی دینے والا کردار دیا ہے، نہ کہ موت اور تباہی کی علامت بننے کا۔ اگر ہم اپنی بلوچ روایات کی بات کریں تو ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور ہمارے قبائلی اقدار بھی ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ عورت ہماری عزت اور غیرت کی علامت ہے۔ ہماری روایات میں کہیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ خواتین کو جنگ کا ایندھن بنایا جائے، انہیں تشدد کی راہ پر دھکیلا جائے یا انہیں ایسے راستوں پر چلنے پر آمادہ کیا جائے جن کا انجام صرف تباہی ہو۔ افسوس اس بات کا ہے کہ معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی باتوں کو ہزاروں لوگ سنتے اور مانتے ہیں۔ ایسے بااثر افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو تعلیم، شعور، امن اور تعمیر کی طرف بلائیں، نہ کہ تشدد اور خونریزی کی طرف۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ دوسروں کے بچوں کو لڑنے اور مرنے کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے، مگر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ محفوظ اور روشن مستقبل کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس پر ہر نوجوان اور ہر والدین کو غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اپنے نظریے کے لیے جدوجہد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، لیکن ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ عورتوں کو جنگ کا حصہ بنانا، انہیں تشدد کی علامت بنانا اور ان کے جذبات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ اسلام کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی بلوچ روایات سے۔ آئیے، ہم اپنی نسلوں کو نفرت نہیں بلکہ علم دیں، تشدد نہیں بلکہ شعور دیں، اور جنگ نہیں بلکہ امن، ترقی اور ایک بہتر مستقبل کا راستہ دکھائیں۔ #بلوچستان، #پاکستان #trending #fypシ

About