@mussafir_786: مدینہ کے ایک بہت بڑے یہودی عالم اور حبر (زید بن سعنہ) نے تورات میں رسول اللہ ﷺ کے اوصافِ جمیلہ پڑھ رکھے تھے. وہ آپ ﷺ کے حلم (بردباری) اور غصے پر قابو پانے کی صفت کا خاص طور پر امتحان لینا چاہتے تھے کہ آیا آپ ﷺ کے حلم پر غصہ غالب آتا ہے یا نہیں. ایک دن انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے قرض کی واپسی کا تقاضہ کیا. ابھی قرض کی میعاد پوری ہونے میں دو تین دن باقی تھے کہ وہ آئے، آپ ﷺ کی چادر مبارک کو سختی سے کھینچ کر پکڑا، انتہائی درشت لہجے میں کہا، اور الزام لگایا کہ اے عبدالمطلب کی اولاد! تم لوگ ٹال مٹول کے عادی ہو اور وقت پر قرض ادا نہیں کرتے. یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ غصے سے کاپنے لگے اور اس یہودی کو سخت سست کہنے لگے. تب رسول اللہ ﷺ مسکرائے، حضرت عمرؓ کو نرمی کی تلقین کی اور فرمایا:"اے عمر! ہمیں اس کے علاوہ کسی اور رویے کی ضرورت تھی، تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے اچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کا کہتے اور اسے اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا مشورہ دیتے." پھر آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا کہ اس کا پورا قرض ادا کر دیا جائے اور ڈرانے کی پاداش میں مقررہ وزن سے بیس صاع کھجوریں زائد دی جائیں. اس عظیم حلم، عفو اور حسنِ سلوک کو دیکھ کر زید بن سعنہ نے وہیں موقع پر گواہی دی کہ نبوت کی تمام نشانیاں وہ پہلے ہی آپ کے مبارک چہرے میں دیکھ چکے تھے، سوائے اس ایک صفت (حلمِ نبوی) کے جس کا انہوں نے عملی تجربہ کر لیا تھا. اسی وقت انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے مال کا ایک بڑا حصہ راہِ خدا میں صدقہ کر دیا #prophetemuhammad #abuhuraira #bilalhabshi #foryoupage #creatorsearchinsights