@wordsbykanwal: "پیروں کو ہاتھ لگاؤں گا تو معاف کرو گی؟" سے... "میرا اس عورت کے ساتھ اب گزارا نہیں ہو سکتا۔" تک کا سفر... صرف چند برسوں کا نہیں تھا، یہ ایک انسان کے اندر محبت کے مر جانے کا سفر تھا۔ وہی شخص جو کبھی تمہاری ناراضی سے ڈر جاتا تھا، ایک دن تمہارے آنسوؤں سے بھی بے اثر ہو گیا۔ وہی ہاتھ جو کبھی تمہیں کھونے کے خوف سے معافی مانگنے کے لیے جھک جاتے تھے، ایک دن تمہیں چھوڑ دینے کے فیصلے پر بھی نہیں کانپے۔ محبت اچانک ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہی انسان ایک دن میں بدل جاتا ہے۔ پہلے لہجہ بدلتا ہے... پھر وقت بدلتا ہے... پھر ترجیحات بدلتی ہیں... پھر احترام کم ہونے لگتا ہے... اور آخر میں وہ شخص بدل جاتا ہے جس کے لیے کبھی تم پوری دنیا ہوا کرتی تھیں۔ سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، بلکہ یہ احساس دیتا ہے کہ جس انسان نے کبھی تمہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی نعمت کہا تھا، وہی ایک دن تمہیں اپنی زندگی کا بوجھ سمجھنے لگے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔ نہیں... وقت صرف حقیقت سامنے لاتا ہے۔ بدلتے تو لوگ ہیں۔ اور جب انسان بدل جاتا ہے تو اس کے وعدے، اس کی محبت، اس کی ترجیحات، حتیٰ کہ اس کی زبان بھی بدل جاتی ہے۔ "پیروں کو ہاتھ لگاؤں گا تو معاف کرو گی؟" سے... "میرا اس عورت کے ساتھ اب گزارا نہیں ہو سکتا۔" تک کا سفر... صرف الفاظ کے بدلنے کا نہیں تھا، یہ اُس مرد کے بدل جانے کا سفر تھا... جس نے کبھی محبت کو زندگی کہا تھا، اور پھر ایک دن اسی محبت کو بوجھ کہہ دیا۔