@t_a_t_y_a_n_a31r:

31🇷🇺*♡ꭲคɳყค♡*36🇷🇺
31🇷🇺*♡ꭲคɳყค♡*36🇷🇺
Open In TikTok:
Region: BY
Wednesday 05 August 2026 17:53:15 GMT
10883
371
16
338

Music

Download

Comments

foto.salon3
Foto Salon. ...Свет И Лана.Та :
да вы правильно говорите.это суть.🥰😇🤪
2026-08-05 18:26:58
2
user8184541961938
Лариса :
2026-08-10 08:50:18
1
user9511015709061
Александр :
2026-08-31 23:12:16
1
user3660096681746
Жан Жан Жан :
❤️
2026-08-22 19:38:08
1
user3660096681746
Жан Жан Жан :
👍
2026-08-22 19:37:54
1
user955418133106
@#12346** :
напишы и я вазму❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️💋💋💋💋💋💋💋
2026-08-05 19:30:01
1
normundsstrautmal
normundsstrautmal :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-08-18 03:15:25
1
lai973877
Mahmoud Ahmed :
💖🇷🇺💖
2026-08-09 18:47:22
1
user12019725030917
Татьяна :
💯💯💯
2026-08-05 18:07:36
1
lidijakli34
lidijaKLi34 :
❤️❤️❤️
2026-08-06 16:48:22
1
.6725218
Виталий Курьянов 27 06 67 :
🥰🥰🥰
2026-08-10 05:47:55
0
user2614561307797
🦅Всем удачи🦅 :
👍👍👍
2026-08-06 15:37:24
0
vasilevich003
vasilevich003 :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-08-07 08:38:41
1
user2414079466411
Василий Рабаджи :
💯
2026-08-08 15:10:34
1
dymrkhk4vw3l
Геннадий Владимирович 29071981 :
[Огонек][Огонек][Огонек]
2026-09-11 06:50:38
1
To see more videos from user @t_a_t_y_a_n_a31r, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption میرا دل پھٹ جاتا ہے جب میں یہ سب سوچتی ہوں کہ مجھے بے وجہ کے دکھ کیوں ملے، بے وجہ مجھے اذیت کیوں دی گئی، آخر کیوں؟ میرا قصور کیا تھا کہ میں ہر رشتے میں مخلص تھی؟ میں نے تو کبھی کسی سے اس کی حیثیت سے بڑھ کر کچھ نہیں مانگا، بس اتنا چاہا کہ جسے اپنا سمجھوں وہ بھی مجھے اپنا سمجھے، جس کے لیے دل میں جگہ بناؤں وہ میرے خلوص کی قدر کرے، اور جس رشتے کو پوری سچائی سے نبھاؤں وہ رشتہ مجھے درمیانِ سفر تنہا چھوڑ کر نہ جائے۔ مگر شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں نے لوگوں کو وہ محبت دی جس کے وہ عادی نہیں تھے، وہ وفا دی جس کی انہیں قدر نہیں تھی، اور وہ اعتبار دیا جسے انہوں نے توڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ میں ہر بار اپنے دل کو سمجھاتی رہی کہ شاید سامنے والا مجبور ہوگا، شاید اس کے رویے کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر ہر بار میری امید ہی میرے لیے ایک نیا زخم بن گئی۔ میں نے دوسروں کی غلطیوں کے لیے بھی خود کو تسلیاں دیں، ان کی سخت باتوں کو نظرانداز کیا، ان کی بے رخی کو برداشت کیا، ان کے بدلتے رویوں کے پیچھے وجوہات تلاش کرتی رہی، صرف اس لیے کہ میرے ہاتھ سے کوئی رشتہ نہ چھوٹ جائے۔ میں نے کتنی ہی بار اپنے آنسو چھپائے، کتنی ہی بار دل کی تکلیف کو مسکراہٹ کے پیچھے دفن کیا، کتنی ہی بار خود ٹوٹ کر دوسروں کو جوڑنے کی کوشش کی، مگر جب مجھے سہارا چاہیے تھا تو میرے پاس میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کیا مخلص ہونا واقعی اتنی بڑی غلطی تھی؟ کیا ہر ایک کے لیے اچھا سوچنا، ہر تعلق کو عزت دینا، ہر بار معاف کر دینا اور ہر حال میں ساتھ نبھانا اتنا بڑا جرم تھا کہ اس کے بدلے میں مجھے اتنے زخم ملے؟ میں نے تو کسی کے راستے میں کانٹے نہیں بچھائے، پھر میرے راستے میں اتنے کانٹے کیوں آئے؟ میں نے کسی کے دل کو جان بوجھ کر نہیں توڑا، پھر میرے دل کو بار بار کیوں توڑا گیا؟ شاید کچھ لوگ ہماری محبت کے قابل نہیں ہوتے، مگر اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی، ہم اپنے خلوص کو ان کے رویوں سے شکست نہیں دینا چاہتے۔ ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ایک دن انہیں ہماری قدر سمجھ آئے گی، ایک دن انہیں احساس ہوگا کہ کوئی تھا جو ان کے لیے دل سے دعا کرتا تھا، ان کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتا تھا، ان کی پریشانی میں خود بے چین ہو جاتا تھا، مگر بعض اوقات وہ دن کبھی نہیں آتا۔ پھر انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں، کچھ سوال رہ جاتے ہیں اور ایک ایسا دل رہ جاتا ہے جو ہر جواب کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں کہ لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا، تکلیف تو یہ ہے کہ میں نے جنہیں کبھی چھوڑنے کا سوچا تک نہیں، انہوں نے مجھے چھوڑنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔ میں نے جن کے لیے اپنے دل میں دعائیں رکھی تھیں، انہی کے رویوں نے میری آنکھوں میں آنسو بھر دیے۔ میں نے جنہیں اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ سمجھا، انہی سے ملنے والے دکھ میری زندگی کے سب سے تلخ باب بن گئے۔ آج بھی کبھی خاموشی میں بیٹھتی ہوں تو دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر میرا قصور کیا تھا؟ اور پھر اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ شاید قصور میرا خلوص نہیں تھا، قصور صرف یہ تھا کہ میں نے غلط لوگوں سے سچی محبت، سچی وفا اور سچے رشتوں کی امید کر لی تھی۔ اب دل تھک چکا ہے، ہر تعلق کو بچانے کی کوشش کرتے کرتے، ہر شخص کو سمجھتے سمجھتے اور ہر بار خود کو ہی قصوروار ٹھہراتے ٹھہراتے۔ اب بس اتنا چاہتی ہوں کہ اللہ میرے دل کو اس سوال سے آزاد کر دے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، کیونکہ کچھ سوالوں کے جواب انسانوں کے پاس نہیں ہوتے، ان کے جواب صرف وقت اور اللہ کی حکمت میں چھپے ہوتے ہیں۔ میں نے جو سہا، وہ شاید کوئی دوسرا نہ سمجھ سکے، مگر میرا رب جانتا ہے کہ میں نے کتنی بار ٹوٹ کر بھی کسی کا برا نہیں چاہا، کتنی بار دل دکھنے کے باوجود دعا دی، اور کتنی بار اپنے آنسو پونچھ کر یہی کہا کہ شاید میرے نصیب میں سکون ابھی باقی ہے۔ شاید ایک دن مجھے سمجھ آئے گا کہ جن دکھوں کو میں بے وجہ سمجھ کر روئی تھی، اللہ نے انہی دکھوں کے ذریعے مجھے لوگوں کی حقیقت، اپنی قدر اور اپنی ذات کی اہمیت سمجھائی تھی۔ تب شاید میں پلٹ کر اپنے ماضی کو دیکھوں گی اور کہوں گی کہ ہاں، میں مخلص تھی، میں غلط نہیں تھی، بس میں نے اپنا سچا دل وہاں رکھ دیا تھا جہاں اس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ✍️
caption میرا دل پھٹ جاتا ہے جب میں یہ سب سوچتی ہوں کہ مجھے بے وجہ کے دکھ کیوں ملے، بے وجہ مجھے اذیت کیوں دی گئی، آخر کیوں؟ میرا قصور کیا تھا کہ میں ہر رشتے میں مخلص تھی؟ میں نے تو کبھی کسی سے اس کی حیثیت سے بڑھ کر کچھ نہیں مانگا، بس اتنا چاہا کہ جسے اپنا سمجھوں وہ بھی مجھے اپنا سمجھے، جس کے لیے دل میں جگہ بناؤں وہ میرے خلوص کی قدر کرے، اور جس رشتے کو پوری سچائی سے نبھاؤں وہ رشتہ مجھے درمیانِ سفر تنہا چھوڑ کر نہ جائے۔ مگر شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں نے لوگوں کو وہ محبت دی جس کے وہ عادی نہیں تھے، وہ وفا دی جس کی انہیں قدر نہیں تھی، اور وہ اعتبار دیا جسے انہوں نے توڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ میں ہر بار اپنے دل کو سمجھاتی رہی کہ شاید سامنے والا مجبور ہوگا، شاید اس کے رویے کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر ہر بار میری امید ہی میرے لیے ایک نیا زخم بن گئی۔ میں نے دوسروں کی غلطیوں کے لیے بھی خود کو تسلیاں دیں، ان کی سخت باتوں کو نظرانداز کیا، ان کی بے رخی کو برداشت کیا، ان کے بدلتے رویوں کے پیچھے وجوہات تلاش کرتی رہی، صرف اس لیے کہ میرے ہاتھ سے کوئی رشتہ نہ چھوٹ جائے۔ میں نے کتنی ہی بار اپنے آنسو چھپائے، کتنی ہی بار دل کی تکلیف کو مسکراہٹ کے پیچھے دفن کیا، کتنی ہی بار خود ٹوٹ کر دوسروں کو جوڑنے کی کوشش کی، مگر جب مجھے سہارا چاہیے تھا تو میرے پاس میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کیا مخلص ہونا واقعی اتنی بڑی غلطی تھی؟ کیا ہر ایک کے لیے اچھا سوچنا، ہر تعلق کو عزت دینا، ہر بار معاف کر دینا اور ہر حال میں ساتھ نبھانا اتنا بڑا جرم تھا کہ اس کے بدلے میں مجھے اتنے زخم ملے؟ میں نے تو کسی کے راستے میں کانٹے نہیں بچھائے، پھر میرے راستے میں اتنے کانٹے کیوں آئے؟ میں نے کسی کے دل کو جان بوجھ کر نہیں توڑا، پھر میرے دل کو بار بار کیوں توڑا گیا؟ شاید کچھ لوگ ہماری محبت کے قابل نہیں ہوتے، مگر اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی، ہم اپنے خلوص کو ان کے رویوں سے شکست نہیں دینا چاہتے۔ ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ایک دن انہیں ہماری قدر سمجھ آئے گی، ایک دن انہیں احساس ہوگا کہ کوئی تھا جو ان کے لیے دل سے دعا کرتا تھا، ان کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتا تھا، ان کی پریشانی میں خود بے چین ہو جاتا تھا، مگر بعض اوقات وہ دن کبھی نہیں آتا۔ پھر انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں، کچھ سوال رہ جاتے ہیں اور ایک ایسا دل رہ جاتا ہے جو ہر جواب کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں کہ لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا، تکلیف تو یہ ہے کہ میں نے جنہیں کبھی چھوڑنے کا سوچا تک نہیں، انہوں نے مجھے چھوڑنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔ میں نے جن کے لیے اپنے دل میں دعائیں رکھی تھیں، انہی کے رویوں نے میری آنکھوں میں آنسو بھر دیے۔ میں نے جنہیں اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ سمجھا، انہی سے ملنے والے دکھ میری زندگی کے سب سے تلخ باب بن گئے۔ آج بھی کبھی خاموشی میں بیٹھتی ہوں تو دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر میرا قصور کیا تھا؟ اور پھر اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ شاید قصور میرا خلوص نہیں تھا، قصور صرف یہ تھا کہ میں نے غلط لوگوں سے سچی محبت، سچی وفا اور سچے رشتوں کی امید کر لی تھی۔ اب دل تھک چکا ہے، ہر تعلق کو بچانے کی کوشش کرتے کرتے، ہر شخص کو سمجھتے سمجھتے اور ہر بار خود کو ہی قصوروار ٹھہراتے ٹھہراتے۔ اب بس اتنا چاہتی ہوں کہ اللہ میرے دل کو اس سوال سے آزاد کر دے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، کیونکہ کچھ سوالوں کے جواب انسانوں کے پاس نہیں ہوتے، ان کے جواب صرف وقت اور اللہ کی حکمت میں چھپے ہوتے ہیں۔ میں نے جو سہا، وہ شاید کوئی دوسرا نہ سمجھ سکے، مگر میرا رب جانتا ہے کہ میں نے کتنی بار ٹوٹ کر بھی کسی کا برا نہیں چاہا، کتنی بار دل دکھنے کے باوجود دعا دی، اور کتنی بار اپنے آنسو پونچھ کر یہی کہا کہ شاید میرے نصیب میں سکون ابھی باقی ہے۔ شاید ایک دن مجھے سمجھ آئے گا کہ جن دکھوں کو میں بے وجہ سمجھ کر روئی تھی، اللہ نے انہی دکھوں کے ذریعے مجھے لوگوں کی حقیقت، اپنی قدر اور اپنی ذات کی اہمیت سمجھائی تھی۔ تب شاید میں پلٹ کر اپنے ماضی کو دیکھوں گی اور کہوں گی کہ ہاں، میں مخلص تھی، میں غلط نہیں تھی، بس میں نے اپنا سچا دل وہاں رکھ دیا تھا جہاں اس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ✍️

About