@canelinha72: Vou lova para deus #diaadia

canelinha72
canelinha72
Open In TikTok:
Region: BR
Wednesday 05 August 2026 18:53:58 GMT
8796
263
13
0

Music

Download

Comments

amjad.khan.913
Amjad.khan. ..🇵🇰💪🇵🇸🌹🌹 :
i like u
2026-08-05 19:06:42
0
olicioamaro
irmão Olicio 🇧🇷 :
que Deus abençoe você
2026-08-06 00:52:40
1
betosilva812
Beto Silva :
❤️❤️❤️❤️❤️
2026-08-07 12:57:16
0
elperro866
el guapo :
hola mi bella
2026-08-06 08:32:27
0
antoniofilho123
Antônio Filho :
maravilhosa demais linda
2026-08-06 23:34:58
0
josu.ferreira344
geólogo Josué Ferreira :
2026-08-06 09:14:08
0
assis.ferreira29
Assis Ferreira :
❤️❤️❤️❤️❤️
2026-08-06 03:39:20
0
robson.ilrio6
Robson Ilário :
🥰🥰🥰
2026-08-06 02:13:57
0
luis.rodrigues429
Luis Rodrigues :
❤️❤️❤️
2026-08-05 19:06:56
0
user4055494799639
user4055494799639 :
😻😻😻
2026-08-05 18:57:37
0
assis.ferreira29
Assis Ferreira :
😍😍😍😍😍
2026-08-06 03:39:26
0
To see more videos from user @canelinha72, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#viralpoetry🥀🥺  ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌  🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀  ​📜 شعر: ​
#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌 🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀 ​📜 شعر: ​"عشق بھی کرتے ہو اور سکون بھی چاہتے ہو غالبؔ بڑے نادان ہو زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو" ​🌷 تشریح: ​اس خوبصورت شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کے ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ شعر کا پہلا مصرعہ انسان سے مخاطب ہے کہ تم عشق جیسی طوفانی اور بے چین کر دینے والی کیفیت میں مبتلا ہو، اور پھر بھی دل کے سکون اور چین کی امید رکھتے ہو؟ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں ہیں۔ ​شعر کے دوسرے حصے میں شاعر نے عشق کو "زہر" سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عشق کرنا ایسا ہی ہے جیسے جان بوجھ کر زہر کا پیالہ پی لینا۔ اب جب تم نے خود ہی زہر پی لیا ہے، تو پھر زندگی اور سلامتی کی دعا مانگنا نادانی اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر تمہیں زندگی پیاری تھی، تو زہر کیوں پیا؟ اور اگر زہر پی لیا ہے، تو موت کے لیے تیار رہو۔ ​💬 تفصیل: ​غالب نے اس شعر میں عشق کے راستے کی صعوبتوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی بے چینی کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک عشق کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے آرام، سکون اور بسا اوقات جان کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ​انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے عشق کی خوشیاں اور لذتیں ملیں، لیکن وہ اس کے ساتھ آنے والے درد، تکلیف، اور بے قراری سے بچنا چاہتا ہے۔ غالب اس رویے کو "نادانی" قرار دیتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ عشق کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو اس کے تمام نتائج، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سکون اور آرام کی تمنا اس راستے پر چلنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ شعر ایک طرح سے حقیقت پسندی کا سبق دیتا ہے کہ ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے، اور ہم نتائج سے بچ نہیں سکتے۔

About