@darvash993: میں اب تم سے بچھڑتا ہوں میں تم سے ہی نہیں اپنے لب جاں کے ترغم سے بچھڑتا ہوں مگر شاید بچھڑنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں ہم اُن کا پاس اگر رکھیں تو اچھا ہو ہمیں اپنی زبانیں بند رکھنی ہیں ہمیں اب دل کے زخموں کا کوئی شکوانہیں کرنا کوئی شکوا بھی ہو وہ ایک شکوا ہی تو ہوتا ہے وہ اک حالت کی ہوتی ہے مگر اس کے کوئی معنی نہیں ہوتے نہ اُس سے جی سنبھلتا ہے، نہ اُس سے کچھ بدلتا ہے محبت کے بھی کچھ معنی نہیں تھے اور جو کچھ تھا وہ اک طور سخن تھا اور اس طور سخن کی ایک نا آسودہ حالت تھی نہ میں نے کچھ کہا تھا تم سے اپنے لہجہ دل میں نہ اپنے لہجہ جاں میں نہ تم نے کچھ سنا تھا اپنے حال عشوہ ساماں میں وہ حالت جو تھی خواب خواب کی افسوں طرازی تھی وہ بے احوال صد احوال کی احوال بازی تھی وہ جو کچھ تھا گمان ماجرا سازی کا پیشہ تھا ہماری ایک دو لمحے کی سرشاری کا تاوان ہمیشہ تھا ہمیں اب دل کے زخموں کا کوئی شکو انہیں کرنا ہمیں اپنے دل و جاں کے کسی بھی جھوٹ کو رسوا نہیں کرنا میں اب تم سے بچھڑتا ہوں لہو کا نم تھا جس میں ، اس تکلم سے بچھڑتا ہوں لب جاں کے ترنم سے بچھڑتا ہوں جو سب کچھ تھا، سبھی کچھ، اس تو ہم سے بچھڑتا ہوں میں اب تم سے بچھڑتا ہوں جون ایلیاء #katiljauneliasahab #darvash993 #fypage