@khamosh.siskiyan: وصل کی حسرت کے پردے میں ہوا کچھ اور ہے ماجرا یہ ہے کہ میرا ماجرا کچھ اور ہے شوق تو اِک نام تھا لیکن جُدا تھیں حالتیں اُس کی لغزش اور ہے،میری خطا کچھ اور ہے ہجر ہی آخر کو ٹھیرایا گیا میری سزا خود سے شرمندہ ہوں میں، میری سزا کچھ اور ہے آپ سنتے جائیے بس جو بھی کہتا جاؤں میں مدّعا یہ ہے کہ میرا مدّعا کچھ اور ہے کم نہیں موجِ صبا بھی ہم دِوانوں کو مگر پر توِ رنگینئ موجِ صبا کچھ اور ہے شاید اب اس شہر میں اپنی گزر آساں نہ ہو جس سے شکوا کیجیے اُس نے کہا کچھ اور ہے میں نے ہر سمتِ صدا کی بات سُن لی ہے مگر سمتِ خاموشی سے فرمایا گیا کچھ اور ہے ہم کو تو ہونا تھا جانے کن ہواؤں کا غبار اُس دریچے سے جو آئے وہ ہوا کچھ اور ہے شکریہ پیرِ مغاں! تیری نوازش کا ولے ناف پیالے کی گلابی کا نشہ کچھ اور ہے اے بہم لمحہ اداے ناز کی تازہ نمود شوق ہر دَم اِک نیا شکوا ہے یا کچھ اور ہے کام میں اس شہر کی چیزوں کو لائیں کس طرح یاں تو جو بھی چیز ہے، اپنے سوا کچھ اور ہے منبر و مسند نہ تھے جب، تب خدا کچھ اور تھا منبر و مسند سلامت، اب خدا کچھ اور ہے خوش گمانی حالِ خوش تیرا کہ ہنسیے بولیے بدگمانی کی اذیّت کا مزہ کچھ اور ہے ہر نفس نازِ بتِ قاتل ادا کچھ اور ہے یه سخن از مدّعا تا مدّعا کچھ اور ہے جن چراغوں کو بُجھایا تھا جَلا دو پھر اُنھیں ویسے قصّہ مختصر یاراں، بُجھا کچھ اور ہے (جونؔ ایلیا - کتاب: کیوں - غزل) #jouneliya #asad2723